٢٢٣٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى بن (عبد الأعلى عن) (١) معمر ⦗٥٢١⦘ عن الزهري أن ابن عمر وزيد بن ثابت كانا لا يريان بأسًا بشراء الرزق إذا (أخرجت) (٢) القطوط، وهي الصكاك، ويقولون: لا تبعه حتى تقبضه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت زید بن ثابت نے راشن کی پرچیاں خریدنے کو جائز قرار دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ قبضہ سے پہلے نہ بیچو۔
٢٢٣٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم (عن) (١) أيوب عن نافع قال: نبئت أن حكيم بن حزام كان يشتري صكاك الرزق، فنهى عمر أن يبيع حتى يقبض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حکیم بن حزام راشن کی پرچیوں کو بیچتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں قبضے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔
٢٢٣٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر عن عمر بنحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یونہی منقول ہے۔
٢٢٣٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن إسماعيل بن (أبي) (١) خالد قال: سئل عامر عن بيع الرزق فقال: لا بأس به، ولكن لا يبيعه حتى يقبضه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے راشن کی فروخت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں حرج نہیں لیکن قبضے سے پہلے نہ بیچو۔
٢٢٣٧٣ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن محمد أنه كان يكره بيع الرزق إذا خرجت الصكاك.
مولانا محمد اویس سرور
محمد نے راشن کی پرچیاں نکلنے کے بعد اس کی بیع کو مکروہ قرار دیا ہے۔
٢٢٣٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن أنه كان يكرهه، ويقول: إنه لا يجيء سواء، ويقول: إنهم يكيلون بالجريب، ويقول: اشترِ كيلًا مسمى إلى أجل مسمى.
مولانا محمد اویس سرور
حسن نے اسے مکروہ قرار دیا اور فرمایا کہ اس میں برابری نہیں ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اسلاف جریب کے ذریعے ماپتے تھے۔ حسن فرماتے ہیں کہ مقررہ پیمانے کو مقررہ مدت تک کے لیے خریدو۔
٢٢٣٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن سلم بن عبد الرحمن عن الحارث عن إبراهيم أنه كره بيع الرزق حتى يقبض الصك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے پرچی کے حصول تک راشن کی بیع کو مکروہ کہا ہے۔
٢٢٣٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن معمر عن الزهري أنه كره بيع الرزق] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری نے قبضہ تک راشن کی بیع کو مکروہ کہا ہے۔