کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص صدقہ کرے اور وہی چیز وراثت میں دوبارہ اُس کو مل جائے
٢٢٢٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد اللَّه بن عطاء عن ابن (بريدة) (١) عن أبيه قال: جاءت امرأة إلى النبي ﷺ فقالت: إني تصدقت على أمي بجارية فماتت أمي، وبقيت الجارية، فقال لها: "وجب أجرك ورجعت إليك في الميراث" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : میں نے اپنی والدہ پر ایک باندی صدقہ کی تھی، میری والدہ کا انتقال ہوگیا اور باندی میرے پاس رہ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تیرا اجر پورا ہوگیا اور وہ باندی وراثت میں تیری طرف لوٹ آئی۔
٢٢٢٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن حميد بن هلال أن رجلًا منهم تصدق على أمه بأمة فكاتبتها ثم توفيت أمه، فسأل عمران بن حصين فقال: أنت ترث أمك، وإن شئت وجهتها في الوجه الذي كنت وجهتها فيه، قال حميد: فلقد رأيتها يقال لها: (لبيبة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ھلال رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی والدہ کو باندی صدقہ کی، اس کی والدہ نے اس باندی کو مکاتبہ بنا لیا، پھر اس کا انتقال ہوگیا تو باندی وراثت میں دوبارہ اسی کو مل گئی، اس شخص نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو اپنی والدہ کے ترکہ کا وارث بنے گا، اور اگر تو اس کے ساتھ وہی معاملہ کرنا چاہے جو پہلے کرتا تھا تو کرسکتا ہے۔ حضرت حمیدّ فرماتے ہیں کہ اس کا نام لبیبہ تھا۔
٢٢٢٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن عمر بن عامر عن قتادة عن سعيد بن المسيب في الرجل يتصدق بالصدقة ثم يرثها، قال: إذا ردها (إليه) (١) كتاب اللَّه فلا بأس بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو کوئی چیز صدقہ کرے پھر وہ اس کو وراثت میں واپس مل جائے : فرماتے ہیں کہ کتاب اللہ کے حکم کے مطابق اس کو مل جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
٢٢٢٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يقول في الصدقة إذا ورثها (١): يجعلها في مثل الوجه الذي كانت فيه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی صدقہ کرنے کے بعد وراثت میں دوبارہ اس کا مالک بن جائے تو جو اس کے ساتھ پہلے کرتا تھا وہی کرے۔
٢٢٢٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن العوام عن إبراهيم التيمي مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم التیمی رحمہ اللہ سے اسی طرح منقول ہے۔
٢٢٢٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن حصين عن الشعبي عن شريح أنه كان لا يرى بأسًا أن يأكلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ اس کو کھالیا جائے۔
٢٢٢٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن أنه كان لا يرى بأسًا أن يأكلها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اس کو کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
٢٢٢٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن سيار عن الشعبي قال: كل فإن اللَّه لم يكن ليطعمك حرامًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو کھالو، اللہ تعالیٰ نے اس کا کھانا تم پر حرام نہیں کیا۔
٢٢٢٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن داود عن عامر عن مسروق قال: ما رد عليك سهام الفرائض فهو لك حلال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو چیز بھی میراث میں حصہ بن کر آپ کو ملے اس کا کھانا آپ کے لئے حلال ہے۔
٢٢٢٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن العوام عن إبراهيم التيمي أن عمر كان إذا كانت صدقة فردها عليه حق -يرى أن يوجهها في مثل ما كانت (فيه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم التیمی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب کوئی چیز صدقہ کرتے اور وہ میراث میں ان کو اگر واپس مل جاتی تو اس کے ساتھ وہی معاملہ کرتے ( اس کے ساتھ اسی طرح پیش آتے) جس میں وہ پہلے تھا۔
٢٢٢٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد (عن) (١) العوام عن عكرمة عن ابن عباس قال: إذا ردها إليه حق فلا بأس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر وہ وراثت میں واپس آپ کو مل جائے تو کوئی حرج نہیں۔
٢٢٢٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن الشعبي في الرجل يتصدق بالصدقة ثم يرثها قال: إن السهام لم (تزدها) (١) إلا حلالًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو صدقہ کرے پھر وہی چیز اس کو میراث میں مل جائے تو میراث میں اس کا حصہ اس میں حلّت کے علاوہ کسی چیز کا اضافہ نہیں کرے گا۔
٢٢٢٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يتصدق بالصدقة ثم (ترجع) (١) إليه (في) (٢) الميراث (قال) (٣): يجعلها (من) (٤) حصة غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص صدقہ کرے پھر وہی چیز وراثت میں اس کو واپس مل رہی ہو تو اس کو کسی دوسرے وارث کے حصہ میں ڈال دے۔
٢٢٢٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (مزرع) (١) قال: سألت الشعبي عنها فقال: إن أخذها فلا بأس، وإن أمضاها أفضل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مُزرّع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا اگر تو اپنے حصہ میں لے لے تو کوئی حرج نہیں، اور اگر چھوڑ دے تو یہ افضل ہے۔
٢٢٢٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن حماد عن إبراهيم قال: يجعلها في مثلها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسی کے مثل میں اس کو رکھے گا ( دوبارہ صدقہ کر دے گا) ۔
٢٢٣٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن سليمان التيمي عن أبي ⦗٥٠٥⦘ عثمان قال: قال عمر: السائبة والصدقة ليومهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ منت والی اونٹنی اور صدقہ اسی دن کے لئے ہیں۔ ( قیامت کے دن کے لئے ) ۔