٢٢٢١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن (سلم) (١) بن أبي الذيال قال: سألت الحسن عن الرجل تكون له الأرض ولا يكون له ماء، يشتريه لأرضه؟ فقال: نعم لا بأس بذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بن ابو الذیال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ ایک آدمی کی زمین ہے لیکن اس کے پاس پانی نہیں ہے کیا وہ اپنی زمین کو سیراب کرنے کے لئے پانی خرید سکتا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : جی ہاں اس میں کوئی حرج نہیں۔
٢٢٢١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن ابن جريج فيما قرأ عليه عن عطاء قال: قلت له: بيع الماء في القرب؟ قال: لا بأس به (١)، وهو يستقيه، (وهو) (٢) يحمله، ليس كفضل الماء الذي يذهب في الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ مشک میں بھرے ہوئے پانی کو بیچنا جائز ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ وہ اس کو دریا سے نکال کر اس کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ لہٰذا یہ اس پانی کی طرح نہیں ہے جو زمین میں بہہ رہا ہے۔
٢٢٢١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن (بيع) (١) فضل الماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد پانی کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
٢٢٢٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من منع فضل ماء (ليمنع) (١) به (فضل) (٢) الكلأ منعه اللَّه فضله يوم القيامة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص زائد پانی کو روکے تاکہ وہ گھاس وغیرہ پر نہ پہنچے تو اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس سے زائد انعام و اکرام کو روک لیں گے۔
٢٢٢٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا المسعودي عن عمران بن عمير قال: منعني (جاري) (١) فضل (مائه) (٢)، فسألت عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة (٣) فقال: (سمعت) (٤) أبا هريرة يقول: لا يحل بيع فضل الماء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے ایک پڑوسی نے زائد پانی روک لیا، میں نے حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ عتبہ رحمہ اللہ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ زائد پانی کی بیع جائز نہیں ہے۔
٢٢٢٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر عن إبراهيم بن محمد بن (المنتشر) (١) قال: كان مسروق يعجبه ثمنُ الماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ پانی کو فروخت کر کے اس کے ثمن کو پسند فرماتے تھے۔ مسروق رحمہ اللہ کو یہ بات بہت عجیب معلوم ہوئی تھی، وکیع کہتے ہیں یعنی یہ بات کہ اونٹ اور کمر پر لادتے ہوئے پانی کو بیچا جائے۔
٢٢٢٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة (عن زكريا) (١) عن يحيى بن سعيد عن القاسم قال: يكره (بيع) (٢) فضل الماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ بچے ہوئے کی بیع کو ناپسند سمجھتے تھے۔
٢٢٢٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا زهير عن أبي (الزبير) (١) عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن (جده) (٢) أن غلامًا لهم باع فضل ماء لهم (من عين لهم) (٣) بعشرين ألفًا، فقال له عبد اللَّه (بن عمرو) (٤): لا (تبيعوه) (٥) فإنه لا يحل بيعه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کا ایک غلام تھا جو ان کے چشمہ کا زائد پانی بیس ہزار میں فروخت کرتا، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اس کو فروخت نہ کرو، بیشک اس کی بیع جائز نہیں۔
٢٢٢٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن أبي المنهال قال: سمعت إياس بن عبد المزني، ورأى أناسا يبيعون الماء فقال: لا تبيعوا الماء، فإني ⦗٤٨٩⦘ سمعت رسول اللَّه ﷺ (نهى) (١) أن يباع (فضل) (٢) (الماء) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن عبد المزنی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو پانی کی بیع کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : اس کو نہ بیچو، بیشک میں نے رسول اکرم ﷺ کو اس کی بیع سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔
٢٢٢٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال: [نهى رسول اللَّه ﷺ عن (منع) (٢) فضل الماء (ليمنع) (٣) به فضل الكلأ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد پانی کو روکنے سے منع فرمایا کہ گھاس و سبزہ وغیرہ رک سکے۔
٢٢٢٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش (عن أبي صالح) (١) عن أبي هريرة قال] (٢): قال رسول اللَّه ﷺ: "ثلاثة لا يكلمهم اللَّه يوم ⦗٤٩٠⦘ القيامة: رجل منع ابن السبيل فضل ماء عنده، ورجل حلف على (سلعة) (٣) بعد العصر -يعني كاذبا-، ورجل بايع إمامًا (فإن) (٤) أعطاه وفى، وإن لم يعطه منها لم (يف) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین بدنصیب ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں فرمائے گا، اول وہ شخص جس کے پاس زائد پانی موجود ہو لیکن وہ مسافر کو نہ دے، دوسرا وہ شخص جو اپنے سامان کو فروخت کرنے کے لئے جھوٹی قسم اٹھائے، تیسرا وہ شخص جو امام کے ہاتھ پر بیعت کرے ، پس اگر وہ اس کو کچھ عطاء کرے تو بیعت کو پورا کرے اور اگر کچھ عطاء نہ کرے تو اس کو پورا نہ کرے۔
٢٢٢٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا ابن إسحاق عن محمد بن عبد الرحمن عن أمه (١) عمرة عن عائشة قالت: نهى رسول اللَّه ﷺ أن يمنع (نقع) (٢) البئر -يعني- (فضل) (٣) الماء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد پانی کو روکنے سے منع فرمایا ہے۔