کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص باندی خریدنے کے بعد اُس کے ساتھ صحبت کرے پھر وہ اس میں موجود عیب پر مطلع ہو جائے
٢٢١٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (شريك) (١) عن جابر عن عامر (عن) (٢) عمر (٣) قال: إن كانت ثيبًا رد نصف العشر، وإن كانت بكرًا رد (٤) العشر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ اگر وہ باندی پہلے ہی ثیبہ ہو تو بیسواں حصہ واپس لے اور اگر وہ باکرہ تھی تو دسواں حصہ واپس وصول کرے گا۔
٢٢١٥٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن الأعمش عن إبراهيم عن شريح بمثله] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
٢٢١٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه عن (علي) (١) ابن الحسين عن علي قال: لا يردها، و (لكنها) (٢) (تكسر) (٣) فيرد (٤) عليه قيمة (العيب) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ باندی واپس نہیں کرے گا لیکن عیب کی قیمت اس کو واپس لٹائی جائے گی۔
٢٢١٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن قال: إذا اشترى الرجل الجارية ثم ظهر بها داء كان عند البائع، قال: كان يوجبها عليه، ولا يرد عليه البائع شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص باندی خریدے پھر اس میں کوئی بیماری ( عیب) ظاہر ہوجائے جو بائع کے پاس سے چلا آ رہا ہو تو وہ اس کے ذمہ لازم ہے، بائع اس پر کوئی چیز واپس نہیں لٹائے گا۔
٢٢١٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن عمر ابن عبد العزيز أنه أمضاها عليه، ولم يرد عليه شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس پر بیع کو نافذ کردیا جائے گا، اور اس کو کوئی چیز بھی واپس نہیں لٹائی جائے گی۔
٢٢١٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب عن أيوب عن محمد في الرجل يشتري الجارية وبها داء فيقع عليها قبل أن يطلع على ذلك، قال: أحب إلي أن يوضع عنه بقدر ذلك، ويجوز عليه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو باندی خریدے جس میں بیماری ہو، اور وہ عیب پر مطلع ہونے سے قبل ہی اس سے صحبت کرلے تو فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ اس کی قیمت کچھ کم کردی جائے اور یہ بیع اس کے لیے جائز ہوگی۔
٢٢١٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي عن شريح قال: ما كان يوقت (فيها) (١) شيئًا، يقضي على نحو ما يرى من (هيئتها) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندی کے بارے میں خیار وقت نہیں دیا جائے گا بلکہ خریدنے والا ظاہری حالت کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔
٢٢١٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي معشر عن إبراهيم قال: إن كانت بكرًا رد العشر، وإن كانت ثيبًا رد نصف العشر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ باکرہ تھی تو دسواں حصہ ثمن کا واپس کیا جائے گا اور اگر ثیبہ تھی تو دسویں حصے کا نصف واپس کیا جائے گا۔
٢٢١٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب قال: يرد معها عشرة دنانير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باندی سمیت دس دینار بھی واپس کرے گا۔