کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: غلام آقا کی اجازت کے بغیر تجارت کرے اور مقروض ہو جائے
حدیث نمبر: 22151
٢٢١٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (محمد) (١) بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن قال: إذا أدان العبد بغير إذن مواليه ثم أعتق، فإنه يباع بذلك الدين.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر غلام آقا کی اجازت کے بغیر تجارت کرے اور مقروض ہوجائے ، پھر اس کو آزاد کردیا جائے، بیشک اس کو اس قرض میں فروخت کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22151
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22151، ترقيم محمد عوامة 21275)
حدیث نمبر: 22152
٢٢١٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في العبد يبيع ويشتري بغير إذن سيده، قال: ليس على سيده شيء، هو في ذمة العبد، إذا أعتق فعليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر غلام آقا کی اجازت کے بغیر خریدو فروخت کرے تو اس کے آقا پر کوئی چیز لازم نہ آئے گی، سب کچھ غلام کے ذمہ ہے ، جب اس کو آزاد کردیا جائے تو اسی پر سب کچھ لازم ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22152
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22152، ترقيم محمد عوامة 21276)
حدیث نمبر: 22153
٢٢١٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد الصمد) (١) بن عبد الوارث عن جرير ابن حازم قال: سئل حماد عن عبدٍ اشترى بغير إذن سيده فأعتقه فليس عليه شيء، وأموالهم في (ذمة) (٢) العبد إذا أعتق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ اگر غلام آقا کی اجازت کے بغیر خریدو فروخت کرے، اور اس کو آزاد کردیا جائے، فرمایا آقا پر کچھ بھی لازم نہ آئے گا، قرض خواہوں کا قرض غلام کی گردن پر ہوگا جب وہ آزاد کردیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22153
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22153، ترقيم محمد عوامة 21277)