کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جس غلام کو آقا نے تجارت کرنے کی اجازت دی ہو اُس کا بیان
٢٢١٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يقول في العبد المأذون له في التجارة: إذا كان عليه دين فأعتقه مولاه، (قال) (١): يسعى لهم العبد في دينهم، لم يزده العتق إلا صلاحًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ عبد مأذون کے متعلق فرماتے ہیں کہ اگر اس کے ذمہ قرض ہو اور اس کا آقا اس کو آزاد کر دے ، تو غلام قرض خواہوں کے قرض ادا کرنے کی کوشش کرے گا، آزادی نے اس کی صلاحیت کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا۔
٢٢١٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد في الرجل يأذن لعبده فيدان ثم يعتقه مولاه، قال: يضمن مولاه القيمة.
مولانا محمد اویس سرور
ایسا غلام کہ جس کو آقا نے تجارت کی اجازت دی ہو پھر وہ مقروض ہوجائے اور اس کا آقا بھی اس کو آزاد کر دے۔ اس غلام کے بارے میں حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا آقا اس غلام کی قیمت کا ضامن ہوگا۔ اور حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے قرض خواہ جو قرض باقی بچا ہے اس میں اس کے پیچھے لگے رہیں گے جب تک وہ ادا نہ کردے۔
٢٢١٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في الرجل يفلس فيعتقه سيده: أن عتقه جائز ويضمن السيد ثمنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اما م زہری رحمہ اللہ اس غلام کے متعلق فرماتے ہیں جو مفلس ہوجائے اور اس کا آقا اس کو آزاد کر دے، فرماتے ہیں کہ اس کا آزاد کرنا جائز ہے اور آقا اس کی قیمت کا ضامن ہوگا۔
٢٢١٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن جرير بن حازم عن حماد قال: إن أعتقه سيده فالدين على سيده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آقا اس کو آزاد کر دے تو قرض کی ادائیگی کا ذمہ دار اس کا آقا ہے۔
٢٢١٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان، عن منصور ومغيرة، عن إبراهيم قال: يسعى (للغرماء) (١) لم يزده العتق إلا صلاحًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ قرض خواہوں کی قرض کی ادائیگی کے لئے کوشش کرے گا ، اور آزادی نے اس کی صلاحیت کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا۔