٢١٧٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال: المكاتب عبد ما بقي عليه درهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔
٢١٧٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر قال: المكاتب عبد ما بقي عليه من كتابته درهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔
٢١٧٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي. (١)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔
٢١٧٩٧ - وعن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن زيد. قال: قال: المكاتب: عبد ما بقي عليه درهم (١).
٢١٧٩٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن معبد الجهني عن عمر قال: المكاتب عبد ما بقي عليه درهم] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔
٢١٧٩٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن سليمان التيمي عن رجل قال: قال عمر: المكاتب عبد ما بقي عليه درهم] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔
٢١٨٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن عمرو بن ميمون عن سليمان بن (يسار) (١) قال: استأذنت على عائشة (فقالت: سليمان؟) (٢) فقلت: سليمان! فقالت: أديت ما بقي عليك من (كتابتك) (٣) (التي) (٤) قاطعت عليها، (قال) (٥): (قلت) (٦): نعم! إلا شيئا (يسيرا) (٧) قالت: ادخل فإنك عبد ما بقي عليك شيء (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت چاہی، آپ نے سوال کیا سلیمان ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں سلیمان ہوں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا کہ تمہارے مالکوں کا جو بدل کتابت تم پر باقی تھا کیا تم نے ادا کردیا ؟ میں نے کہا جی ہاں، تھوڑا سا باقی ہے، انہوں نے فرمایا کہ پھر تم آجاؤ کیونکہ جب تک تم پر تھوڑا سا بھی بدل کتابت باقی ہے تم غلام ہی ہو۔
٢١٨٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ليث عن مجاهد قال: كان أمهات المؤمنين لا يحتجبن من المكاتب ما بقي عليه من مكاتبته مثقال أو دينار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ امہات المومنین g مکاتب سے پردہ نہیں کرتی تھیں جب تک اس پر بدل کتابت کا ایک مثقال یا ایک دینار بھی باقی ہوتا۔
٢١٨٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن جعفر بن (برقان) (١) عن ميمون أن عائشة قالت لمكاتب لها يكنى أبا مريم: ادخل وإن لم يبق عليك إلا أربعة دراهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابو مریم کی کنیت رکھنے والے ایک مکاتب سے کہا کہ تم اندر آجاؤ خواہ تم پر بدل کتابت کے چار درہم ہی باقی رہتے ہوں۔
٢١٨٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى عن عكرمة عن ابن عباس قال: (حد) (١) المكاتب حد المملوك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مکاتب اور مملوک کی حد ایک ہے۔
٢١٨٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبدة) (١) (بن) (٢) سليمان عن صالح بن حي عن الشعبي قال: حد (المكاتب حد المملوك) (٣) ما بقي عليه درهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مکاتب اور مملوک کی حد ایک ہے، جب تک اس پر ایک درہم بھی بدل کتابت کا باقی رہتا ہو۔
٢١٨٠٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن يمان عن معمر عن الزهري قال: المكاتب عبد ما بقي عليه درهم] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔
٢١٨٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (يحيى) (١) بن يمان عن إسرائيل عن عباد بن منصور عن (حماد) (٢) عن إبراهيم عن عثمان قال: الكاتب عبد ما بقي عليه درهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔
٢١٨٠٧ - [حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن عباد بن منصور عن حماد عن إبراهيم عن عثمان قال: المكاتب عبد ما بقي عليه درهم] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔
٢١٨٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن داود بن أبي الفرات عن إبراهيم الصائغ عن عطاء وعبد اللَّه بن عبيد بن عمير ونافع قالوا: المكاتب عبد ما بقي عليه درهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت عبد اللہ بن عبید اور حضرت نافع فرماتے ہیں کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی رہے وہ غلام ہی ہے۔