حدیث نمبر: 21772
٢١٧٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن عبد العزيز بن رفيع عن ابن أبي مليكة قال: كتب إليَّ ابن عباس أن ضمن العارية إن شاء صاحبها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان دلواؤ اگر چیز کا مالک چاہے۔
حدیث نمبر: 21773
٢١٧٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن سوادة بن زياد قال: (كتبت) (١) إلى عمر بن عبد العزيز في امرأة استعارت (حليا لعرس) (٢) (فهلك) (٣) الحلي، فكتب عمر بن عبد العزيز: لا ضمان عليها إلا أن تكون (بغتة) (٤) غائلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوادہ بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کے نام خط لکھا کہ ایک عورت نے شادی کے لئے کسی سے زیور مانگا، پھر وہ زیور ضائع ہوگیا۔ اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر عورت نے اس میں کوئی خیانت نہیں کی تو ضمان نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 21774
٢١٧٧٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن داود عن عمر بن عبد العزيز أنه كان يضمّن العارية] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان مقرر کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 21775
٢١٧٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن الحكم أن عليا (١) قال: في العارية هو مؤتمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ امانت ہے۔
حدیث نمبر: 21776
٢١٧٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن (شباك) (١) قال: استعارت امرأة خواتيم فأرادت أن تتوضا فوضعتها في حجرها فضاعت، فارتفعوا إلى شريح فقال: إنما استعارت لتردها فخالفت، فضمنها شريح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شباک فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے کسی سے انگوٹھیاں استعمال کے لئے حاصل کیں، ایک دن وہ وضو کرنے لگی تو اس نے انگوٹھیاں اپنی گود میں رکھ دیں، انگوٹھیاں کہیں گرگئیں، یہ مقدمہ قاضی شریح کی عدالت میں پیش ہوا، ان سے کہا گیا کہ یہ انگوٹھیاں اس نے عاریہ کے طور پر لی تھیں تاکہ واپس کرے، اب اس نے معاہدے کی مخالفت کی ہے، حضرت شریح نے اس کا ضمان مقرر کیا۔
حدیث نمبر: 21777
٢١٧٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن (مغيرة) (١) عن إبراهيم قال: ليس على المستكري والمستعير ضمان إلا أن (يخالفا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کرایہ پر چیز لینے والے اور مانگ کرلینے والے پر ضمان نہیں ہے، لیکن اگر معاملے کی مخالفت کریں تو پھر ہے۔
حدیث نمبر: 21778
٢١٧٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن عبد الملك بن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن الحكم وحماد أنهما كانا لا يضمنان المستعير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان مقر ر نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 21779
٢١٧٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن قال: إذا خالف صاحب العارية ضمن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب صاحب عاریہ نے معاہدے کی مخالفت کی تو ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 21780
٢١٧٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبي إسحاق عن عطاء قال: العارية مضمونة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 21781
٢١٧٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن جريج و (١) ابن شريك عن ⦗٣٩٤⦘ ابن أبي مليكة أن ابن عباس كان يضمن العارية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان مقرر کرتے تھے اور ابن جریج کے مطابق جب مالک تقاضاکرے۔
حدیث نمبر: 21782
٢١٧٨٢ - وزاد ابن جريج: إذا (تبعها) (١) صاحبها (٢).
حدیث نمبر: 21783
٢١٧٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن علي بن صالح عن عبد الأعلى عن محمد بن الحنفية عن علي قال: العارية ليست (ببيع) (١) ولا مضمونة، إنما هو معروف إلا أن يخالف فيضمن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عاریہ نہ تو بیع ہے نہ اس کا ضمان ہوتا ہے، یہ ایک نیکی ہے البتہ اگر استعمال کرنے والا معاہدہ کی مخالفت کرے توضمان ہوگا۔
حدیث نمبر: 21784
٢١٧٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في رجل استعار من رجل فرسا فركضه حتى مات، قال: ليس عليه ضمان؛ لأن الرجل يركض فرسه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے گھوڑا عاریہ پر لیا، اس نے گھوڑے کو ایڑ لگائی تو گھوڑا مرگیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ ضمان نہیں ہوگا، کیونکہ آدمی گھوڑے کو ایڑ لگایا کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 21785
٢١٧٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن الشعبي عن مسروق أنه كان يضمن العارية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان مقرر کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 21786
٢١٧٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة (عن مبارك) (١) عن الحسن قال: إذا استعار دابة فأكراها ضمن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے جانور مانگ کر کرایہ پردے دیا توضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 21787
٢١٧٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن (إياس ابن عبد اللَّه) (١) بن صفوان أن صفوان هرب من رسول اللَّه ﷺ فأرسل إليه رسول ⦗٣٩٥⦘ اللَّه ﷺ، (فأمنه وأسلم) (٢) وكان رسول اللَّه ﷺ يريد حنينا فقال: يا صفوان! هل (لك) (٣) من سلاح؟ قال: عارية أم غصبا؟ قال: لا! بل عارية، فأعاره ما بين الثلاثين إلى الأربعين درعًا، وغزا رسول اللَّه ﷺ حنينا، فلما هَزَمَ (المشركين) (٤) جمعت دروع صفوان، ففقد منها أدراعا، فقال (٥) رسول اللَّه ﷺ: "يا صفوان! إنا (٦) فقدنا من أدراعك أدراعا فهل نغرم لك"؟ فقال: (لا) (٧) يا رسول اللَّه (٨) إن في قلبي اليوم ما لم يكن (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن صفوان کی اولاد کے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت صفوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھاگ گئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف آدمی بھیجا، انہیں امان دیا اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کی طرف جارہے تھے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اے صفوان تمہارے پاس ہتھیار ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ عاریہ کے طو رپر چاہئے یا غصب کے طور پر، حضور ﷺ نے فرمایا کہ عاریہ کے طور پر، پس حضرت صفوان نے تیس زرہیں بطور عاریہ کے پیش کردیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی لڑی، جب مشرکین کو شکست ہوگئی تو حضرت صفوان کی زرہیں جمع کی گئیں، چند زرہیں کم تھی، حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے صفوان ! ہم نے تمہاری کچھ زرہیں کھو دی ہیں، کیا ہم آپ کے لئے ان کی متبادل زرہوں کا انتظام کردیں ؟ حضرت صفوان نے فرمایا کہ نہیں اے اللہ کے رسول ! جو چیز میرے دل میں آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔
حدیث نمبر: 21788
٢١٧٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم قال: ما ضمن شريح عارية إلا امرأة استعارت خاتما فوضعته في (مغتسلها) (١) ⦗٣٩٦⦘ (فضاع) (٢) فضمنها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان کبھی مقرر نہیں کیا، سوائے اس کے کہ ایک عورت نے ایک انگوٹھی عاریہ پر لی، اسے غسل خانے میں رکھا تو وہ انگوٹھی کھو گئی، حضرت شریح نے اس کا ضمان لازم کیا۔
حدیث نمبر: 21789
٢١٧٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن أشعث بن أبي الشعثاء عن شريح أنه كان يضمن العارية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح عاریہ (مانگی ہوئی چیز) کا ضمان مقرر کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 21790
٢١٧٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن الشيباني عن الشعبي قال: كان شريح لا يضمن العارية والوديعة حتى أمره زياد، قال: فقلت له: فكيف كان يصنع ذلك؟ قال: ما زال يضمنها حتى مات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کہتے ہیں کہ حضرت شریح عاریہ اور امانت کا ضمان لازم نہیں کرتے تھے، پھر انہیں زیاد نے ایسا کرنے کا حکم دیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ پھر وہ کیا کرتے تھے ؟ حضرت شعبی نے فرمایا کہ پھر وہ موت تک ضمان لازم ہونے کا فیصلہ کرتے رہے۔
حدیث نمبر: 21791
٢١٧٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو (عن) (١) عبد الرحمن ابن (السائب) (٢) أن رجلا استعار من رجل بعيرًا فعطب البعير فسال مروان أبا هريرة فقال: يضمن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن سائب کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے سے اونٹ عاریہ پر لیا، وہ اونٹ ہلاک ہوگیا تو مروان نے اس بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، انہوں نے اس پر ضمان کو لازم قرار دیا۔
حدیث نمبر: 21792
٢١٧٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن شرحبيل بن مسلم الخولاني قال: سمعت (أبا أمامة) (١) الباهلي قال: سمعت النبي ﷺ يقول في حجة الوداع: العارية مؤداة، والدين (مؤدى) (٢)، والزعيم غارم -يعني الكفيل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ عاریہ اس کے مالک کی طرف بغیر ضمان کے لوٹایا جائے گا، قرضہ اس کے مالک کی طرف بغیر ضمان کے لوٹایا جائے گا اور کفیل ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 21793
٢١٧٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي ﷺ قال: على اليد ما أخذت حتى تؤديه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاتھ نے جو لیا وہ اس پر لازم ہے جب تک واپس نہ کردے۔