کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک بیع عینہ ناجائز ہے یعنی ایسی بیع جس میں ایک آدمی دوسرے کو معلوم مدت کے ادھار اور معلوم ثمن کے عوض ایک چیز بیچے پھر بیچنے والا خود نقد قیمت جو پہلے سے کم ہو ادا کر کے وہ چیز اس سے خرید لے
٢١٣٥٦ - حدثنا حفص بن غياث عن ليث عن عطاء عن ابن عمر قال: نهى عن العينة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بیع عینہ سے منع کیا گیا ہے۔
٢١٣٥٧ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحكم عن مسروق قال: العينة حرام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ عینہ حرام ہے۔
٢١٣٥٨ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه عن إياس بن معاوية أنه كان (١) يرى (التورق) (٢) -يعني: العينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن معاویہ بیع تورق کے قائل تھے۔ (تورق ایسی بیع ہے جس میں ایک ادھار پر کوئی چیز خریدے پھر کوئی تیسرا آدمی اس چیز کو کم قیمت پر نقد خریدے) ۔
٢١٣٥٩ - حدثنا أبو معاوية عن هشام عن ابن سيرين أنه كره العينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین عینہ کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔
٢١٣٦٠ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون قال: ذكروا عند محمد العينة فقال: نبئت أن ابن عباس كان يقول: (دراهم بدراهم) (١) وبينهما (حريرة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ لوگوں نے محمد کے پاس عینہ کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ ایک درہم کے بدلے ایک درہم ہے۔
٢١٣٦١ - حدثنا الفضل (١) بن (دكين) (٢) عن (أبي) (٣) (جناب) (٤) و (يزيد) (٥) بن (مردانبة) (٦) قال أحدهما: جاءنا، وقال الآخر: جاء كتاب عمر بن عبد العزيز إلى عبد الحميد (انْهَ) (٧) من قبلك عن العينة فإنها أخت (الربا) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے ایک خط میں لکھا کہ بیع عینہ سے منع کرو یہ سود کی بہن ہے۔
٢١٣٦٢ - حدثنا وكيع عن الربيع عن الحسن وابن سيرين أنهما كرها (العينة) (١) وما (أدخل) (٢) الناس فيه (منها) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور ابن سیرین نے عینہ کو مکروہ قرار دیا ہے۔
٢١٣٦٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن حجاج عن أبي إسحاق قال: سمعت مسروقا كره العينة و (الحريرة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق نے عینہ اور ریشم کی بیع کو مکروہ قرار دیا ہے۔