حدیث نمبر: 21209
٢١٢٠٩ - حدثنا حفص بن غياث وابن فضيل عن الأعمش، (عن) (١) إبراهيم، عن الأسود، عن عائشة أن رسول اللَّه ﷺ اشترى من يهودي طعاما إلى (أجل) (٢) فرهنه درعه. ولم يذكر ابن فضيل إلى أجل. (٣)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ عرصہ کی بیع پر غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ رہن رکھوائی۔ (ابن فضیل کی روایت میں الی اجل کے الفاظ نہیں)
حدیث نمبر: 21210
٢١٢١٠ - حدثنا حفص عن سعيد (عن) (١) قتادة (عن) (٢) أبي حسان عن ابن عباس قال: لا بأس بالرهن في السلم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سلم میں گروی رکھوانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 21211
٢١٢١١ - [حدثنا ابن عيينة عن أيوب عن قتادة عن أبي حسان عن ابن عباس بنحوه] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سلم میں گروی رکھوانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 21212
٢١٢١٢ - حدثنا حفص وابن فضيل عن الأعمش عن إبراهيم أنه كان لا يرى بالرهن في السلم بأسا، قال: فقيل له: إن سعيد بن جبير يقول: ذلك الربح المضمون، قال (إبراهيم) (١): قد يأخذ الرهن ثم يرتفع (السعر) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرمایا کرتے تھے کہ سلم میں گروی رکھوانے میں کوئی حرج نہیں۔ ان سے کہا گیا کہ حضرت سعید بن جبیر فرماتے تھے کہ یہ ملاہوا ہو انفع ہے تو ابراہیم نے فرمایا کہ بعض اوقات رہن رکھنے کے بعد بھاؤ بڑھ بھی تو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 21213
٢١٢١٣ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني قال: سألت الشعبي عن الرهن في السلم فقال: وددت أني لم أكن أعطيت شيئًا إلا بالرهن.
مولانا محمد اویس سرور
شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے شعبی سے سلم میں گروی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میر ی خواہش تو یہ ہے کہ میں گروی کے بغیر کوئی چیز نہ دوں۔
حدیث نمبر: 21214
٢١٢١٤ - حدثنا أبو أسامة عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب وعطاء أنهما كانا لا يريان بالرهن في السلم بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب اور حضرت عطاء سلم میں گروی رکھوانے کو ٹھیک سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 21215
٢١٢١٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا عبد الحميد بن (بهرام) (١) عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد أن النبي ﷺ توفي ودرعه مرهونة عند يهودي بطعام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء بنت یزید فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس غلے کے بدلے رہن رکھی ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 21216
٢١٢١٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن عكرمة عن ابن عباس قال: قبض رسول اللَّه ﷺ وأن درعه (مرهونة) (١) بثلاثين صاعًا (من) (٢) شعير أخذها رزقا لعياله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے بدلے میں گروی رکھوائی ہوئی تھی یہ جو آپ نے اپنے ایک سال کی خوراک کے لیے حاصل کیے تھے۔
حدیث نمبر: 21217
٢١٢١٧ - حدثنا أبو أسامة عن خالد بن دينار قال: سألت سالما عن الرهن في السلم فقرأ! (فرهان) (١) مقبوضة) كأنه لم ير (به) (٢) بأسًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے سلم میں رہن کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی (فرھان مقبوضۃ) گویا ان کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 21218
٢١٢١٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن (الزبرقان) (١) السراج قال: سألت (عبد) (٢) (اللَّه) (٣) بن (معقل) (٤) عن (السلم) (٥) أخذ فيه الرهن أو (القبيل) (٦) فقال: استوثق من الذي لك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبرقان سراج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن معقل سے سوال کیا کہ بیع سلم میں رہن اور کفیل رکھنا کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جو تمہارے لیے محفوظ ہو وہ معاہدہ کرو۔
حدیث نمبر: 21219
٢١٢١٩ - حدثنا ابن (أبي) (١) (زائدة) (٢) عن (ابن) (٣) عون عن عامر قال: إني لأعجب (ممن) (٤) يكره الرهن (أو) (٥) القبيل في السلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے جو سلم میں گروی یا کفیل کو مکروہ سمجھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 21220
٢١٢٢٠ - حدثنا ابن فضيل عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي أنه كان لا يرى بأسا أن تأخذ (ثقة) (١) بمالك، فقال له رجل: (إن) (٢) قوما يكرهون (القبيل) (٣) ولا يرون بالكفيل بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مال کی حفاظت کا معاہدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ان سے ایک آدمی نے کہا کہ ایک قوم کے لوگ سلم میں مطلق کفیل کو ناپسند سمجھتے ہیں اور نفوس کے کفیل میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
حدیث نمبر: 21221
٢١٢٢١ - حدثنا ابن أبي زائدة عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: كان أصحاب عبد اللَّه لا يرون به بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت عبدا للہ کے شاگرد اس کو ٹھیک سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 21222
٢١٢٢٢ - حدثنا ابن أبي زائدة عن عبد الملك عن عطاء مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 21223
٢١٢٢٣ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن (عن جابر) (١) عن أبي جعفر وسالم و (القاسم) (٢) قالوا: لا بأس بالرهن في السلم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر، سالم اور قاسم فرماتے ہیں کہ سلم میں گروی رکھوانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21224
٢١٢٢٤ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن أيوب عن محمد قال: إذا كان (أوله) (١) حلالا فالرهن مما أمر به.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ اگر بنیاد حلال ہو تو رہن مامور بہ چیزوں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 21225
٢١٢٢٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد عن مجاهد عن ابن عمر أنه سئل عن الرهن في السلم فقال: استوثق (من مالك) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیع سلم میں گروی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے مال کی حفاظت کا معاہدہ کرو۔
حدیث نمبر: 21226
٢١٢٢٦ - حدثنا وكيع قال حدثنا ابن أبي خالد قال: سئل عامر عن الرهن في السلم قال: (إني) (١) لا أقول فيه مثل قول ابن جبير إنه (ربا) (٢) مضمون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے سلم میں رہن کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو اس میں وہ بات کہوں گا جو سعید بن جبیر نے کی کہ یہ ملایا ہوا سود ہے۔
حدیث نمبر: 21227
٢١٢٢٧ - حدثنا وكيع قال: نا سفيان عن يزيد عن مقسم عن ابن عباس قال: لا بأس بالرهن والكفيل في السلم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سلم میں رہن اور کفیل میں کوئی حرج نہیں۔