٢١٠٨١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عبد اللَّه قال: كنا مع (رسول اللَّه) (١) ﷺ في غار، (و) (٢) قد أنزلت عليه: ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا﴾، قال (٣): فنحن نأخذها من فيه رطبة، إذ دخلت علينا حية، فقال لنا رسول اللَّه ﷺ: "اقتلوها" (فابتدرنا لها) (٤) (لنقتلها) (٥) (فسبقتنا) (٦) (بنفسها) (٧) فقال رسول اللَّه ﷺ: "وقاها اللَّه شركم كما وقاكم شرها" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ساتھ ایک غار میں تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی { وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا } اس آیت کے نازل ہوتے ہی ہم نے اسے حضور ﷺ کے سینہ مبارک سے حاصل کرلیا۔ اتنے میں ایک سانپ غار میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو مار ڈالو۔ ہم سانپ کو مارنے کے لیے بڑھے ہی تھے کہ وہ بھاگ گیا پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ نے اسے تمہارے شر سے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا۔
٢١٠٨٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الكريم عن مجاهد قال: قال عمر: اقتلوا الحيات كلهم على كل حال (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سانپوں کو ہر حال میں مار ڈالو۔
٢١٠٨٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عبد اللَّه بن عبيد بن عمير (عن) (١) أبي الطفيل عن علي بن أبي طالب أنه كان يأمر بقتل (الحيات) (٢) ⦗٢٢١⦘ ذي (الطفيتين) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ شیش ناگ کو مارنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
٢١٠٨٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن أبي صالح قال: (وقال) (١) عمر: أصلحوا (مثاويكم) (٢) و (أخيفوا) (٣) الهوام قبل أن (تخيفكم) (٤) فإنه لا (يظهر) (٥) لكم منهن مسلم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنے گھروں کو صاف رکھو، حشرات کو ان میں پیدا نہ ہونے دو ، انہیں ڈراؤ قبل اس کے کہ وہ تمہیں ڈرائیں کیونکہ مسلمان (جن) تمہارے سامنے ان کی شکل میں ظاہر نہ ہوگا۔
٢١٠٨٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه: [من قتل حية قتل كافرًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے سانپ کو قتل کیا گویا اس نے کافر کو قتل کیا۔
٢١٠٨٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي قيس عن علقمة قال: قال عبد اللَّه] (١): اقتلوا الحيات كلها إلا الذي كأنه (ملمول) (٢) فإنه جنها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سانپوں کو قتل کرو صرف اس سانپ کو قتل نہ کرو جو سرمی دانی کی سلائی کی طرح ہے کیونکہ یہ جن ہے۔
٢١٠٨٧ - حدثنا الثقفي عن أيوب عن عكرمة عن ابن عباس أنه كان يقتل ⦗٢٢٢⦘ الحيات ويأمر بقتلها ويقول: (الجان) (١) (مسخ) (٢) الجن، كما مسخت القردة من بني إسرائيل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اژدھا کو مارتے تھے اور اسے مارنے کا حکم دیتے اور فرماتے تھے کہ اژدھا جنوں کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس طرح بندر بنی اسرائیل کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں۔
٢١٠٨٨ - حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن عكرمة (٢) قال: كان ابن عمر يأمر بقتل الحيات ثم أمر (بنبذهن) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سانپوں کو مار کر پھینکنے کا حکم دیتے تھے۔
٢١٠٨٩ - [حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث قال: كان الحسن ومحمد يأمران بقتل الحيات إلا الجان] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد چاندی کی مانند اژدھے کے علاوہ سب سانپوں کو مارنے کا حکم دیتے تھے۔
٢١٠٩٠ - (حدثنا ابن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يأمرون بقتل الحيات إلا الجان) (١) الذي بيانه (قضيب) (٢) فضة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف سب سانپوں کو مارنے کا حکم دیتے تھے سوائے اس اژدھے کے جو چاندی کے مانند ہو۔
٢١٠٩١ - حدثنا (خلف) (١) بن خليفة عن ابن أبي طلحة عن أبي جعفر قال: سألته عن قتل الحيات فقال: (وددت) (٢) أني وجدت من يتبعهن (فيقتلهن) (٣) ⦗٢٢٣⦘ و (نعطيه) (٤) على ذلك أجرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے سانپوں کو مارنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا شخص ہو جو انہیں تلاش کر کے مارے اور ہم اسے اس کا عوض دیں۔
٢١٠٩٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي قيس عن علقمة قال: ما يضر أحدكم قتل حية أو قتل كافرًا إلا الذي كأنه ميل فإنه جنّها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ سانپ اور کافر کو مارنا ایک جیسا ہے البتہ وہ سانپ جو سرمہ دانی کی سلائی کی طرح ہو اسے مارنا درست نہیں وہ جن ہے۔
٢١٠٩٣ - حدثنا عبدة عن هشام عن (أبيه) (١) عن عائشة قالت: (أمر) (٢) رسول اللَّه ﷺ بقتل ذي (الطفيتين) (٣)، فإنه (يلتمس) (٤) البصر، ويصيب (الحمل) (٥) يعني حية (خبيثة) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے شیش ناگ کو مارنے کا حکم دیا کیونکہ یہ آنکھ کو تلاش کرتا ہے اور حمل کو نشانہ بناتا ہے۔
٢١٠٩٤ - حدثنا عبيد اللَّه عن (ابن) (١) أبي ليلى عن (ثابت البناني) (٢) قال: قال عبد الرحمن بن أبي ليلى: قال أبو ليلى: جاء رجل إلى (٣) النبي ﷺ فسأله (عن) (٤) الحيات في البيوت فقال: "إن رأيتموهن في مساكنكم فقولوا لهن ننشدكم بالعهد الذي أخذ عليكم (نوح، ننشدكم بالعهد الذي أخذ عليكم) (٥) سليمان بن داود أن ⦗٢٢٤⦘ (لا) (٦) (تؤذوننا) (٧) فإن (رأيتم) (٨) منهن شيئًا فاقتلوهن" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو لیلیٰ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے حضور ﷺ سے گھروں میں سانپوں کے بارے میں سوال کیا ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم انہیں اپنے گھروں میں دیکھو تو ان سے کہو کہ ہم تمہیں حضرت نوح سے کیا ہوا تمہارا وعدہ یاد دلاتے ہیں، ہم تمہیں حضرت سلیمان بن داود سے کیا ہو اتمہارا وعدہ یاد دلاتے ہیں کہ تم ہمیں تکلیف نہ دو ۔ پھر بھی اگر تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اسے مار ڈالو۔
٢١٠٩٥ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن داود بن أبي (الفرات) (٢) عن محمد بن زيد عن أبي الأعين العبدي عن أبي الأحوص عن (عبد اللَّه) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من قتل حية قتل كافرًا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس نے سانپ کو مارا اس نے کافر کو مارا۔
٢١٠٩٦ - حدثنا أبو داود (الحفري) (١) عمر بن (سعد) (٢) عن سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن (عبد اللَّه) (٣) قال: من قتل حية قتل كافرًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے سانپ کو مارا اس نے کافر کو مارا۔
٢١٠٩٧ - حدثنا ابن علية عن بن أبي نجيح عن مجاهد قال: من قتل حية فقد قتل عدوًا كافرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جس نے سانپ کو مارا اس نے دشمن کافر کو مارا۔