حدیث نمبر: 21069
٢١٠٦٩ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن عبد الحميد بن جبير (بن شيبة) (٢) (٣) سعيد بن المسيب عن أم شريك أن النبي ﷺ أمرها بقتل (الأوزاغ) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام شریک فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 21070
٢١٠٧٠ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد (عن) (١) النبي ﷺ أنه (أمر) (٢) بقتله يعني (الوزغ) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 21071
٢١٠٧١ - حدثنا يحيى بن سعيد عن أبي جعفر (الخطمي) (١) قال: حدثني خالي عبد الرحمن عن جدي عقبة بن فاكه قال: أتيت زيد بن ثابت نصف النهار فاستأذنت، عليه فخرج (متزرًا) (٢) بيده عصى فقلت: (أين كنت) (٣) في هذه الساعة؟ فقال: (إني) (٤) كنت أتبع هذه الدابة، يكتب اللَّه بقتلها الحسنة ويمحو بها السيئة فاقتلها وهي (الوزغ) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن فاکہ کہتے ہیں کہ میں نصف نہار کے وقت حضرت زید بن ثابت کے پاس حاضر ہوا۔ میں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو وہ ازار پہنے ہوئے ہاتھ میں لاٹھی پکڑے باہر تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا کہ اس وقت آپ کیا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں اس جانور کو تلاش کر رہا ہوں جس کو مارنے پر اللہ تعالیٰ ایک نیکی لکھتے ہیں اور ایک گناہ معاف فرماتے ہیں اس کو مارو اور وہ جانور چھپکلی ہے۔
حدیث نمبر: 21072
٢١٠٧٢ - [حدثنا وكيع عن حنظلة عن القاسم عن عائشة أنها كانت تقتل الأوزاغ] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا چھپکلیوں کو مارا کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 21073
٢١٠٧٣ - حدثنا وكيع عن هشام (عن أبيه) (١) عن عائشة أنها كانت تفعله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا چھپکلیوں کو مارا کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 21074
٢١٠٧٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي عمرة عن سعيد بن جبير قال: من قتل (وزغة) (١) كانت له بها صدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جس نے ایک چھپکلی کو مارا اسے ایک صدقے کا ثواب ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 21075
٢١٠٧٥ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عبد الكريم عن عطاء قال: من قتل (وزغة) (١) كفر عنه سبع (خطيئات) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جس نے ایک چھپکلی کو مارا اس کے سات گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 21076
٢١٠٧٦ - حدثنا يونس بن محمد نا (جرير) (١) بن حازم عن نافع عن (سائبة) (٢) مولاة لفاكه بن المغيرة أنها دخلت على عائشة، فرأت في بيتها رمحا موضوعا، فقالت: يا أم المؤمنين! ما تصنعين بهذا؟ قالت: نقتل (بها) (٣) هذه (الأوزاغ) (٤) فإن (النبي) (٥) ﷺ (أخبرنا) (٦) أن إبراهيم خليل اللَّه لما ألقي في النار لم تكن (دابة في الأرض) (٧) إلا أطفات النار عنه، غير (الوزغ) (٨)؛ فإنه كان ⦗٢١٩⦘ ينفخ عليه فأمر رسول اللَّه ﷺ بقتله (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاکہ بن مغیرہ کی مولاۃ حضرت سائبہ فرماتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے میں ان کے پاس حاضر ہوئی تو وہاں ایک نیزہ پڑا تھا۔ میں نے پوچھا کہ اے ام المؤمنین ! آپ اس نیزے کا کیا کریں گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم اس سے چھپکلیوں کو قتل کریں گے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں بتایا ہے کہ جب خلیل اللہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین پر موجود ہر جانور آگ کو بجھا رہا تھا جبکہ چھپکلی آپ پر پھونکیں مار کر اسے اور زیادہ بھڑکا رہی تھی اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 21077
٢١٠٧٧ - حدثنا خالد بن مخلد عن موسى بن يعقوب قال: أخبرتني عمتي (قريبة) (١) بنت عبد اللَّه بن وهب قالت: كانت أم سلمة تأمر بقتل (الوزغ) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا چھپکلیوں کو مارنے کا حکم دیتی تھیں۔
حدیث نمبر: 21078
٢١٠٧٨ - حدثنا حفص عن ليث عن مجاهد عن ابن عمر قال: اقتلوا (الوزغ) (١) في (الحل) (٢) والحرم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چھپکلی کو حل اور حرم دونوں جگہ مار ڈالو۔
حدیث نمبر: 21079
٢١٠٧٩ - [حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن أبي العميس عن أبيه قال: كانت لعائشة قناة تقتل بها الوزغ] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمیس کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نیزہ تھا جس سے وہ چھپکلیوں کو مارتی تھیں۔
حدیث نمبر: 21080
٢١٠٨٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن عثمان بن الأسود عن مجاهد أنه كان يأمر بقتل (الوزغ) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد چھپکلیوں کو مارنے کا حکم دیتے تھے۔