٢١٠٤٣ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري (عن أبي إدريس) (١) عن أبي ثعلبة قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن أكل كل ذي ناب من السباع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ثعلبہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے کچلی والے ہر جانور کو کھانے سے منع فرمایا۔
٢١٠٤٤ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن (يزيد) (١) (بن) (٢) جابر قال: نا القاسم ومكحول عن أبي أمامة أن رسول اللَّه ﷺ نهى يوم خيبر عن كل ذي ناب من السباع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے غزوہ خیبر میں کچلی والے جانور کو کھانے سے منع فرمایا۔
٢١٠٤٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة (عن) (١) محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة أن رسول اللَّه ﷺ حرم يوم خيبر كل ذي (ناب) (٢) من السباع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے غزوہ خیبر میں کچلی والے ہر جانور کو کھانے سے منع فرمایا۔
٢١٠٤٦ - حدثنا هشيم (عن) (١) أبي بشر عن ميمون بن مهران عن ابن ⦗٢١٢⦘ عباس قال: نهى عن كل (ذي) (٢) ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ہر کچلی والے جانور اور پنجے سے شکار کرنے والے پرندے کو کھانے سے منع فرمایا۔
٢١٠٤٧ - حدثنا (هاشم) (١) بن القاسم عن عكرمة بن عمار عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن جابر قال: حرم رسول اللَّه ﷺ يوم خيبر كل ذي ناب من السباع، وكل ذي مخلب من الطير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم خیبر میں ہر کچلی والے جانور اور پنجے سے شکار کرنے والے پرندے کو کھانے سے منع فرمایا۔
٢١٠٤٨ - [حدثنا يحيى بن آدم عن أبي عوانة عن أبي بشر عن ميمون بن مهران عن ابن عباس قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن كل ذي ناب من السباع، وعن كل ذي مخلب من الطير] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم خیبر میں کچلی والے جانور اور پنجے سے شکار کرنے والے پرندے کو کھانے سے منع فرمایا۔
٢١٠٤٩ - حدثنا (أبو) (١) أسامة عن ابن عون عن محمد قال: كانوا يكرهون كل ذي مخلب من الطير وكل سبع (ذي ناب) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ اسلاف پنجے سے شکار کرنے والے پرندے اور کچلی والے جانور کو ناجائز قرار دیتے تھے۔
٢١٠٥٠ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يكرهون من ⦗٢١٣⦘ الطير ما أكل (الجيف) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف مردار کھانے والے پرندے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
٢١٠٥١ - حدثنا (أبو بكر) (١) (قال) (٢): نا عبد الرحيم عن ليث عن مجاهد قال: كل شيء (لقط) (٣) من الطير فليس به بأس، وكل شيء نهش بمنقاره أو أخذ (بمخلبه) (٤) فكان يكره (لحمه) (٥)، وكان يكره لحم (الصرد) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ چگ کر کھانے والا پرندہ بالکل حلال ہے۔ چونچ اور پنجوں سے شکار کرنے والا مکروہ ہے۔ وہ لٹورے کے گوشت کو مکروہ خیال کرتے تھے۔
٢١٠٥٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن (أبي) (١) نجيح قال: قلت لمجاهد إن اليهود لا يأكلون (من) (٢) الطير (إلا) (٣) ما لقط، قال: فأعجب ذلك (مجاهدًا) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے کہا کہ یہودی صرف وہ پرندے کھاتے ہیں جو چگتے ہیں۔ حضرت مجاہد نے اس بات کو پسند فرمایا۔
٢١٠٥٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن القاسم قال: كانت عائشة إذا سئلت عن كل ذي ناب من السباع، وكل ذي مخلب من الطير قالت: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا (عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ) (١)﴾، ثم تقول: إن ⦗٢١٤⦘ (البرمة) (٢) (لتكون) (٣) فيها (الصفرة) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب کچلی والے جانوروں اور نوکیلے پنجے والے پرندوں کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ یہ آیت پڑھتیں { لاَ أَجِدُ فِیمَا أُوحِیَ إلَیَّ مُحَرَّمًا }
٢١٠٥٤ - حدثنا وكيع عن معمر عن موسى عن أبي جعفر أنه كره أكل سباع الطير وسباع الوحش.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر نے خونخوار شکاری اور درندوں کے کھانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔