کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر مرغی یا بکری وغیرہ کو تیر مارا جائے اور وہ مر جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21035
٢١٠٣٥ - حدثنا يحيى بن (١) سعيد عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: أرأيت لو رميت ديكًا أو كبشًا بالنبل كنت تأكله؟ قال: لا، هو ميتة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے سوال کیا کہ اگر میں کسی مرغ یا بھیڑ کو تیر ماروں تو کیا آپ اسے کھائیں گے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں وہ تو مردار ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21035
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21035، ترقيم محمد عوامة 20217)
حدیث نمبر: 21036
٢١٠٣٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه أنه كان ينهى عن ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس اس سے منع فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21036
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21036، ترقيم محمد عوامة 20218)
حدیث نمبر: 21037
٢١٠٣٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (المنهال) (١) عن سعيد بن جبير (أن) (٢) ابن عمر مر على قوم نصبوا دجاجة (يرمونها) (٣) فقال: (لعن) (٤) رسول اللَّه ﷺ من مثل بالبهائم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو مرغی کو باندھ کر نشانہ بنا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے جو جانوروں پر نشانے بازی کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21037
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٥١٥)، ومسلم (١٩٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21037، ترقيم محمد عوامة 20219)
حدیث نمبر: 21038
٢١٠٣٨ - حدثنا عقبة بن خالد عن موسى بن محمد قال: أخبرني أبي عن أبي سعيد قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن يمثل بالبهائم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے جانوروں پر نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21038
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21038، ترقيم محمد عوامة 20220)
حدیث نمبر: 21039
٢١٠٣٩ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: مر على أناس من الأنصار (قد) (١) وضعوا حمامة (٢) يرمونها فقال: نهى رسول اللَّه ﷺ[[أن يتخذ الروح (غرضًا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جنہوں نے ایک کبوتری رکھی ہوئی تھی اور اسے تیر مار رہے تھے، آپ نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے ذی روح کو نشانہ بازی کے لیے ہدف بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21039
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة، أخرجه أحمد (١٨٦٣)، والترمذي (١٤٧٥)، والحاكم (٢/ ٤٨٢)، وابن ماجه (٣١٨١)، والطبراني (١١٧١٨)، وعبد الرزاق (٨٤٢٧)، وأصله عند مسلم (١٩٥٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21039، ترقيم محمد عوامة 20221)
حدیث نمبر: 21040
٢١٠٤٠ - [[حدثنا يزيد أنا شعبة عن هشام بن زيد (بن) (١) أنس قال: دخلت ⦗٢١٠⦘ مع أنس دار الإمارة وقد نصبوا دجاجة وهم يرمونها فقال: نهى رسول اللَّه ﷺ] (٢) أن تصبر البهائم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن زید بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ دارالامارۃ میں داخل ہوا، وہاں کچھ لوگوں نے ایک مرغی کو باندھ رکھا تھا اور اسے نشانہ بنا رہے تھے، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر انہیں نشانہ بنا کر مار دیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21040
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٥١٣)، ومسلم (١٩٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21040، ترقيم محمد عوامة 20222)
حدیث نمبر: 21041
٢١٠٤١ - حدثنا (أبو) (١) (المورع) (٢) عن ابن جريج عن أبي الزبير قال: نهى رسول اللَّه ﷺ] (٣) أن (يقتل) (٤) شيء من البهائم صبرًا]] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زبیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جانور کو باندھ کر نشانہ بنا کر قتل کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21041
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو الزبير تابعي، وورد متصلًا من حديث جابر، أخرجه مسلم (١٩٥٩)، وأحمد (١٤٤٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21041، ترقيم محمد عوامة 20223)
حدیث نمبر: 21042
٢١٠٤٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن (بكير) (١) بن عبد اللَّه بن الأشج عن عبيد بن (تعلى) (٢) عن أبي أيوب قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ (ينهى) (٣) عن صبر البهيمة، وما أحب أني (صبرت) (٤) دجاجة، ولا أن لي كذا وكذا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے جانور کو باندھ کر نشانہ بنانے سے منع فرمایا۔ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں ایک مرغی کو بھی اس طرح باندھ کر ہلاک کروں اور مجھے اس کے بدلے فلاں فلاں چیز مل جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21042
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21042، ترقيم محمد عوامة 20224)