حدیث نمبر: 20883
٢٠٨٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن زكريا عن الشعبي عن عدي بن حاتم قال: سألت رسول اللَّه ﷺ (١) عن صيد المعراض فقال: "ما أصبت بحده فكل، وما أصبت بعرضه فهو (وقيذ) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے معراض کے ذریعے شکار کرنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر جانور کو اس کی نوک لگے تو کھالو اور اگر اس کا عرض لگے تو یہ مردار ہے۔ ( ! معراض اس تیر کو کہتے ہیں جس کے پر نہ ہوں، یہ ہدف کو عرض کے اعتبار سے لگتا ہے نوک کی جانب سے نہیں لگتا۔ )
حدیث نمبر: 20884
٢٠٨٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: أنا عبد اللَّه بن نمير قال: نا (مجالد) (١) عن الشعبي عن عدي بن حاتم قال: قلت يا رسول اللَّه! إنا قوم نرمي بالمعراض فما (يحل لنا) (٢) قال: "لا تأكل ما (أصبت) (٣) بالمعراض إلا ما ذكيّت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر ہم معراض سے شکار کریں تو کیا وہ ہمارے لیے حلال ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ معراض سے شکار کیا گیا صرف وہ جانور تمہارے لیے حلال ہے جسے تم ذبح کرو۔
حدیث نمبر: 20885
٢٠٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب عن يحيى بن سعيد عن عمرو بن شعيب عن حذيفة أنه كان يأكل ما قتل (بالمعراض) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ معراض سے کیا گیا شکار کھالیتے تھے۔
حدیث نمبر: 20886
٢٠٨٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن هاشم وعبد الرحيم بن (سليمان) (١) عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: قال (سلمان) (٢): ما (خزق) (٣) المعراض فكل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ اگر معراض شکار کے اندر گھس جائے تو اسے کھالو۔
حدیث نمبر: 20887
٢٠٨٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن (غياث) (١) عن أشعث عن (٢) ⦗١٦٩⦘ عكرمة عن ابن عباس قال: لا تأكل ما أصاب المعراض إلا أن يخزق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ معراض کا شکار اس وقت تک حلال نہیں اس کے جسم کو کاٹ نہ ڈالے۔
حدیث نمبر: 20888
٢٠٨٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن (سليمان) (١) عن أشعث عن عكرمة عن ابن عباس مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 20889
٢٠٨٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد (بن) (١) جابر قال: نا مكحول أن رجلًا أتى فضالة بن عبيد صاحب رسول اللَّه ﷺ بعصافير صادهن بمعراض، (فمنها) (٢) ما جعله في (مخلاته) (٣)، ومنها ما جعله في خيط فقال: هذا ما (أصدت) (٤) بمعراض، منها ما أدركت ذكاته، ومنها ما لم أدرك ذكاته فقال: ما أدركت ذكاته فكل، وما لم تدرك ذكاته فلا (تأكله) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ ایک آدمی صحابی رسول حضرت فضالہ بن عبید کے پاس کچھ پرندے لے کر آیا جنہیں اس نے معراض سے شکار کیا تھا۔ ان میں سے بعض اس نے تھیلے میں رکھے تھے اور کچھ دھاگے سے باندھ رکھے تھے۔ اس نے کہا کہ ان میں سے کچھ کو میں نے ذبح کیا ہے اور کچھ ذبح کرنے سے پہلے مرگئے۔ حضرت فضالہ نے فرمایا کہ جنہیں تم نے ذبح کیا ہے انہیں کھالو اور جنہیں تم نے ذبح نہیں کیا انہیں مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20890
٢٠٨٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب عن إسحاق بن عبد اللَّه عن مكحول أن فضالة بن عبيد وأبا مسلم الخولاني كانا يأكلان ما (قتل) (١) المعراض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت فضالہ بن عبید اور حضرت ابو مسلم خولانی معراض سے کیے گئے شکار کو کھالیتے تھے۔
حدیث نمبر: 20891
٢٠٨٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا الفضل بن دكين عن محمد بن مسلم عن إبراهيم بن ميسرة عن عبيد بن سعد أن (بلالًا) (١) رمى أرنبا (بعصى) (٢) (فكسر) (٣) (قوائمها) (٤) ثم ذبحها فأكلها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
عبید بن سعد فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے لاٹھی سے خرگوش اس طرح شکار کیا کہ اس کے پاؤں بھی توڑ دئیے پھر اسے ذبح کیا تو اسے کھا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 20892
٢٠٨٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن خصيف قال: سألت سعيد بن جبير عن المعراض فقال: لم يكن من نبال المسلمين، فلا تأكل منه شيئًا إلا (شيئًا) (١) قد (خزق) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خصیف فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے معراض کے ذریعے شکار کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ مسلمانوں کے تیروں میں سے نہ تھا، اس کا شکار نہ کھاؤ البتہ اگر وہ جانور کی کھال کو چیر دے تو کاٹ سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 20893
٢٠٨٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن حصين عن عامر (١) قال: سألته عن المعراض فقال: إذا (كنت) (٢) أصبت بحده فخزق كما يخزق السهم فكل، فإن (أصابه) (٣) بعرضه (فلا) (٤) تأكل إلا أن تذكيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر سے معراض کے شکار کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تیر کی طرح اس کا نوکیلا حصہ شکار کو لگے تو اسے کھالو اور اگر یہ عرض کے اعتبار سے لگے اور ذبح نہ کرسکو تو نہ کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20894
٢٠٨٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن ⦗١٧١⦘ سعيد أنه كان لا يرى بأسا بما (أصيب) (٢) (بالمعراض) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید معراض کے ذریعے کیے شکار میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 20895
٢٠٨٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن ليث عن مجاهد قال: لا (تأكل) (١) ما أصاب المعراض إلا أن يخزق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ تم معراض کا شکار اس وقت تک نہیں کھا سکتے جب تک وہ اس کی کھال کو کاٹ نہ دے۔
حدیث نمبر: 20896
٢٠٨٩٦ - [حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن الأعمش عن إبراهيم قال: لا (تأكل) (١) ما أصاب المعراض إلا أن يخزق] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ معراض اگر جانور کی کھال کو نہ کاٹے تو اس کا شکار مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20897
٢٠٨٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن الحسن (بن) (١) (عبيد اللَّه) (٢) عن إبراهيم أنه كره ما أصاب المعراض إلا ما خزق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم جانور کی کھال نہ کٹنے کی صورت میں معراض کے شکار کو ممنوع قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 20898
٢٠٨٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي (عن) (١) (عبيد اللَّه) (٢) عن القاسم وسالم أنهما كانا يكرهان المعراض إلا ما أدركت ذكاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم اور حضرت سالم معراض کے شکار کو مکروہ قرار دیتے تھے، البتہ اگر ذبح کا موقع مل جائے تو پھر کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 20899
٢٠٨٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عمر بن أيوب عن مغيرة (بن) (١) زياد عن مكحول قال: أما المعراض فقد كان ناس يكرهونه وقال: هو موقوذة ولكن إذا خزق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ اسلاف معراض سے کئے گئے شکار کو مکروہ قرار دیتے تھے۔ حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ معراض اگر جانور کی کھال کو نہ کاٹے تو یہ جانور مردار ہے۔
حدیث نمبر: 20900
٢٠٩٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر أنه كان لا يأكل ما أصابت البندقة والحجر والمعراض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضڑت ابن عمر رضی اللہ عنہما مٹی کی گولی، پتھر اور معراض سے کیا گیا شکار نہ کھاتے تھے۔