کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر درانتیاں شکار کے لیے لگائی جائیں اور ان کی زد میں کوئی شکار آجائے تو کیا حکم ہے؟
٢٠٨٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا (هشيم) (١) بن بشير عن [حصين (عن) (٢) ابن (أخي) (٣)] (٤) مسروق (سأل) (٥) عن صيد المناجل قال: إنها تقطع من الظباء والحمر فيبين منه الشيء وهو حي، فقال ابن عمر: ما (أبان) (٦) منه وهو حي (فدعه) (٧) و (كل) (٨) ما سوى ذلك (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ درانتیوں کے ذریعے شکار کا کیا حکم ہے یہ خفیہ جگہوں میں لگائی جاتی ہیں اور بعض اوقات ہرنوں اور حماروحشی کے عضو کو کاٹ دیتی ہیں جبکہ جانور زندہ ہوتا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس کے کٹے ہوئے عضو کو چھوڑ دو اور باقی حصے کو کھالو۔
٢٠٨٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن ابن جريج عن عطاء أنه قال في المناجل التي توضع فتمر بها فتقطع منها قال: لا تأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر درانتیاں لگائی جائیں اور ان سے جانور کا کوئی عضو کٹ جائے تو اسے کھانا جائز نہیں۔
٢٠٨٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: إذا وقع الصيد في (الحبالة) (١) فكان فيها حديدة فأصاب الصيد الحديدة فكل، وإن لم (يصب) (٢) الحديدة (و) (٣) لم تدرك ذكاته فلا تأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر جانور کسی جال میں گرا اور اس میں لوہے کے آلات لگے اور وہ لوہا اس کو چھو گیا تو کھالو اور اگر لوہا اس کو نہیں چبھا اور تمہیں وہ جانور ذبح کرنے کا موقع بھی نہیں ملا تو اسے مت کھاؤ۔
٢٠٨٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن يمان عن إسرائيل عن جابر عن عامر أنه كره صيد الناجل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر نے درانتیوں سے شکار کو مکروہ قرار دیا اور حضرت سالم فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔