حدیث نمبر: 20813
٢٠٨١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عيسى بن يونس عن مجالد عن الشعبي عن عدي ابن حاتم قال: سألت رسول اللَّه ﷺ عن صيد الباز فقال: ⦗١٥٣⦘ "ما أمسك عليك فكل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور ﷺ سے باز کے شکار کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : کہ باز تمہارے لیے جو شکار کرے اسے کھالو۔
حدیث نمبر: 20814
٢٠٨١٤ - [حدثنا أبو بكر قال: أخبرنا وكيع عن سفيان عن سالم عن سعيد قال: إذا أكل فلا تأكل] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ باز اگر شکار میں سے کھائے تو تم مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20815
٢٠٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ باز کا شکار کھاؤ خواہ اس نے خود اس میں سے کھایا ہو۔
حدیث نمبر: 20816
٢٠٨١٦ - وعن جابر عن الشعبي قالا: كل من صيد البازي، وإن أكل.
حدیث نمبر: 20817
٢٠٨١٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا حاتم بن وردان عن برد عن مكحول في الصقر و (الكلب) (١): إن أصاب منه (أو أكل منه) (٢) فكل وإن أكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ اگر باز اپنے شکار میں سے کھائے پھر بھی تم اس کو کھالو۔
حدیث نمبر: 20818
٢٠٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن جويبر عن الضحاك في الكلب إذا كان معلمًا فأصاب صيدًا (أو) (١) البازي فأكل: فلا تأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ سدھایا ہوا کتا یا باز شکار میں سے کچھ کھالے تو تم نہ کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20819
٢٠٨١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن (الشيباني) (١) عن حماد قال: إذا (نتف) (٢) الطير أو أكل فكل؛ فإنما تعليمه أن يرجع إليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر شکاری پرندہ شکار کو نوچے یا کھائے تو تم بھی اس میں سے کھالو کیونکہ اس کی تعلیم بس اتنی ہے کہ وہ تمہارے پاس واپس آئے۔
حدیث نمبر: 20820
٢٠٨٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا حميد بن عبد الرحمن عن زهير عن جابر عن عامر والحكم قالا: إذا أرسلت صقرك أو بازك ثم دعوته فأتاك؛ فذاك (علمه) (١)؛ فإن (أرسلت) (٢) على صيد فأكل فكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اور حضرت حکم فرماتے ہیں کہ اگر تم اپنے شکرے یا باز کو شکار پر چھوڑو، پھر تم اسے بلاؤ اور وہ تمہارے پاس آجائے تو اس کی تعلیم یہی ہے، ایسے پرندے کو جب تم شکار پر چھوڑو اور وہ اس میں سے کھالے تو تم بھی اسے کھا سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 20821
٢٠٨٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن داود بن أبي الفرات عن محمد بن زيد عن سعيد بن المسيب عن سلمان قال: إذا أرسلت كلبك وبازك فكل وإن أكل ثلثه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ جب تم اپنے کتے یا باز کو شکار پر چھوڑو تو اس کا شکار کھاؤ خواہ اس کا دو تہائی کھالیا ہو۔
حدیث نمبر: 20822
٢٠٨٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (عمر) (١) بن الوليد (الشيني) (٢) عن عكرمة قال: إذا أكل الباز أو الصقر فلا تأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اگر باز یا شکرا شکار میں سے کھائے تو اسے نہ کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20823
٢٠٨٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن الربيع عن الحسن وعطاء في الباز والصقر يأكل قال عطاء: إذا أكل فلا تأكل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء سے باز اور شکرا کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اگر وہ شکار میں سے کھا لیں تو کیا حکم ہے ؟ حضرت عطاء نے فرمایا کہ ایسی صورت میں مت کھاؤ۔ حسن نے فرمایا کہ کھالو۔
حدیث نمبر: 20824
٢٠٨٢٤ - وقال الحسن: كل.
حدیث نمبر: 20825
٢٠٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن المبارك عن معمر [[عن ابن طاوس عن أبيه أنه لم ير بصيد الفهد بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس چیتے کے شکار کو جائز سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 20826
٢٠٨٢٦ - [(حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن المبارك عن معمر) (١) عن ابن أبي نجيح عن مخاليد قال: الفهد من الجوارح] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ چیتا شکاری جانور ہے۔
حدیث نمبر: 20827
٢٠٨٢٧ - حدثنا أبو بكر]] (١) قال: نا عبد الرزاق عن معمر عن حماد قال: لا بأس بصيد الفهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ چیتے کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 20828
٢٠٨٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا (روّاد) (١) بن جراح عن الأوزاعي عن الزهري قال: لا بأس بصيد الفهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ چیتے کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 20829
٢٠٨٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا معاذ بن معاذ قال: أخبرنا أشعث عن الحسن قال: الفهد والشاهين بمنزلة الكلب.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ چیتا اور شاہین کتے کی طرح ہیں۔
حدیث نمبر: 20830
٢٠٨٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا المحاربي عن الشيباني عن حماد عن إبراهيم أنه كان يكره صيد الكلب والفهد إذا (أكلا) (١) منه، وكان لا يرى بأسا بصيد البازي إذا أكل، لأن (الكلب والفهد) (٢) (يضريان) (٣)، والباز لا (يضري) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شکار کو مکروہ قرار دیتے تھے جس میں سے کتا یا چیتا کھالے، لیکن اگر باز کھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کیونکہ کتا اور چیتا شکار کھانے کے شوقین ہیں جبکہ باز ایسا نہیں۔