١٩٣٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن أنهما قالا: ليس في الظهار وقت، ولا يدخل فيه إيلاء، وإن (تطاول) (١) ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ظہار میں وقت نہیں ہوتا اور اس میں ایلاء داخل نہیں ہوتا خواہ وہ کتناہی طویل کیوں نہ ہوجائے۔
١٩٣٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
١٩٣٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل يظاهر من امرأته ولا يوقت (أجلًا) (١) قال: (لا) (٢) تبين منه امرأته وإن لم يقع عليها (ما دام) (٣) يتلوم في الكفارة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے جماع کیا اور کوئی وقت مقرر نہ کیا تو اس کی بیوی اس سے جدا نہیں ہوگی خواہ وہ اس سے جماع نہ کرے، جبکہ تک کہ وہ کفارے کا انتظار کررہا ہے۔
١٩٣٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا (هشيم) (١) عن مغيرة عن إبراهيم قال: ليس في الظهار وقت.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ظہار میں کوئی وقت نہیں ہوتا۔
١٩٣٤٠ - [حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن (يونس) (١) عن الحسن قال: ليس في الظهار وقت] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ظہار میں کوئی وقت نہیں ہوتا۔
١٩٣٤١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن ليث عن طاوس قال: ليس في الظهار وقت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ظہار میں کوئی وقت نہیں ہوتا۔
١٩٣٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن داود عن الشعبي في رجل قال لامرأته: إن قربتها سنة فهي (عليه) (١) كظهر أمه، قال: فقال الشعبي: لا يدخل الإيلاء في الظهار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میں ایک سال تک تیرے قریب آیا تو تو میرے لئے میری ماں کی پشت کی طرح ہے تو ایلاء ظہار میں داخل نہیں ہوگا۔
١٩٣٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا سهل بن يوسف عن شعبة عن الحكم وحماد قالا: إذا قال الرجل لامرأته: هي عليه كظهر أمه أربعة أشهر فمضت أربعة أشهر فهو إيلاء وإذا قال: هي علي كظهر أمي، فتركها سنة فليس إيلاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کے بارے میں کہا کہ وہ اس کے لئے چار مہینے تک اس کی ماں کی پشت کی طرح ہے، اور چار مہینے گذر گئے تو یہ ایلاء ہے اور اگر یہ کہا کہ وہ اس کی ماں کی پشت کی طرح ہے اور پھر اسے ایک سال تک چھوڑے رکھا تو یہ ایلاء نہیں ہے۔
١٩٣٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن ابن (جريج) (١) عن إبراهيم عن رجل عن علي قال: لا يدخل الإيلاء في (ظهار) (٢) ولا ظهار في (إيلاء) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایلاء ظہار میں اور ظہار ایلاء میں داخل نہیں ہوتا۔