کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی نے کہا کہ’’ جس دن میں فلانی عورت سے شادی کروں تو اسے طلاق‘‘جن حضرات کے نزدیک اس جملہ کی کوئی حیثیت نہیں
١٨٧٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد العزيز بن عبد الصمد العمي عن عامر الأحول عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا طلاق إلا بعد (نكاح) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ طلاق نکاح کے بعد ہی ہوتی ہے۔
١٨٧٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن محمد بن المنكدر ⦗١١٠⦘ (عمن) (١) سمع طاوسًا يقول: (قال) (٢) رسول اللَّه ﷺ: "لا طلاق إلا بعد (نكاح) (٣) ولا عتق قبل ملك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ طلاق نکاح کے بعد اور آزادی ملکیت کے بعد ہوتی ہے۔
١٨٧٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن ليث عن عبد الملك بن ميسرة عن النزال عن علي قال: لا طلاق إلا (١) بعد (نكاح) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق نکاح کے بعد ہی ہوتی ہے۔
١٨٧٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس (قال) (١): لا طلاق إلا بعد (نكاح) (٢) ولا عتق إلا بعد (ملك) (٣) (٤). حدثنا أبو بكر قال: نا حماد بن خالد عن هشام بن سعد عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت: لا طلاق إلا بعد نكاح (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ طلاق نکاح کے بعد ہی ہوتی ہے اور آزادی ملکیت کے بعد ہوتی ہے۔
١٨٧٦٧ - وقال الزهري: إذا وقع النكاح وقع الطلاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ طلاق نکاح کے بعد ہی ہوتی ہے۔ حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نکاح ہوگا تبھی طلاق ہوگی۔
١٨٧٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا (حسن) (١) بن صالح (عن) (٢) (أبي) (٣) إسحاق عن عكرمة عن ابن عباس قال: ما أبالي تزوجتها أو وضعت يدي على هذه السارية، يعني أنها حلال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں عورت سے شادی کروں یا اپنا ہاتھ اس ستون پر رکھوں، یعنی یہ حلال ہے۔
١٨٧٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا ابن أبي ذئب عن عطاء وعن محمد ابن المنكدر عن جابر (يرفعه) (١) قال: لا طلاق قبل نكاح (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی۔
١٨٧٧٠ - حدثنا [أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن عبد الأعلى عن سعيد بن (جبير) (١) أن] (٢) مروان سأل عنها ابن عباس قال: لا طلاق قبل نكاح، ولا عتق قبل ملك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان نے اس بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نکاح سے پہلے طلاق اور ملکیت سے پہلے آزادی نہیں ہوتی۔
١٨٧٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد ⦗١١٢⦘ (عن سعيد) (١) بن المسيب في رجل قال: يوم أتزوج فلانة فهي طالق، قال: ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص کہے کہ جس دن میں فلاں عورت سے شادی کروں تو اسے طلاق ہے، اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں۔
١٨٧٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا خلف بن خليفة قال: سألت منصورا عن الرجل (تذكر) (١) له المرأة (فيقول) (٢): يوم أتزوجها فهي طالق، قال: كان (الحسن) (٣) لا يراه طلاقًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلف بن خلیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے منصور رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر آدمی کسی عورت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہے کہ جس دن میں اس سے شادی کروں اسے طلاق ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حسن رحمہ اللہ اسے کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے۔
١٨٧٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر بن سليمان، عن يونس عن (الحسن) (١) أنه كان لا ير (ى) (٢) بأسًا أن يتزوج التي يقول: يوم أتزوجها فهي طالق.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اس بات کو کوئی اہمیت نہ دیتے تھے کہ آدمی یہ کہے کہ جس دن فلاں عورت سے میری شادی ہو اسے طلاق ہوجائے گی۔
١٨٧٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر عن ليث عن عطاء (و) (١) طاوس مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اور حضرت طاؤس d سے بھی یونہی منقول ہے۔
١٨٧٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن عبد الملك بن أبي سليمان عن سعيد بن جبير في الرجل يقول: يوم أتزوج فلانة فهي طالق، قال: ليس (بشيء) (١) إنما الطلاق بعد النكاح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جس دن میں فلاں عورت سے شادی کروں تو اسے طلاق ہے ، اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ کوئی چیز نہیں، طلاق نکاح کے بعد ہوتی ہے۔
١٨٧٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (معرف) (١) بن واصل عن حبيب بن أبي ثابت أن علي بن حسين قال: لا طلاق قبل نكاح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی۔
١٨٧٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن الحكم عن علي بن (حسين) (١) أنه قال: لا طلاق إلا بعد نكاح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق نکاح کے بعد ہوتی ہے۔
١٨٧٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا الثقفي عن يحيى بن سعيد قال: أخبرني (عبد اللَّه) (١) بن رفاعة (الأنصاري) (٢) أنه ذكر لسعيد بن المسيب أن رجلًا من الأنصار (قيل) (٣) له: ذكر لنا أنك تخطب فلانة -امرأة سموها- فقال الأنصاري: هي طالق إن تزوجتها، فزعم عبد اللَّه أنه سئل سعيد فقال: أما أنا فلا أراه شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے سامنے تذکرہ کیا گیا کہ ایک انصاری سے کسی نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ تم فلاں عورت کو پیام نکاح بھجوا رہے ہو ؟ ان انصاری نے کہا کہ اگر میں اس سے شادی کروں تو اسے طلاق ہے۔ حضرت سعید رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرے خیال میں تو اس بات کی کوئی اہمیت نہیں۔ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ رحمہ اللہ بھی اسی بات کے قائل تھے۔
١٨٧٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة ووكيع قالا: حدثنا شعبة عن أبي بشر عن سعيد بن جبير عن شريح قال: لا طلاق إلا بعد نكاح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق نکاح کے بعد ہی ہوتی ہے۔