کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: جن حضرات کے نزدیک تین طلاقیں دینے میں کوئی حرج نہیں
❮
❯
١٨٧٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن هشام قال: سئل محمد عن الرجل يطلق امرأته ثلاثًا في مقعد واحد قال: لا أعلم بذلك بأسًا، قد طلق عبد الرحمن بن عوف امرأته ثلاثًا، فلم يعب عليه ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ سے ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دی تھیں اور انہیں اس پر کسی قسم کی مذمت کا سامنا نہ ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18744
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18744، ترقيم محمد عوامة 18094)
١٨٧٤٥ - [حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن ابن عون عن محمد قال: كان لا يرى بذلك بأسًا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18745
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18745، ترقيم محمد عوامة 18095)
١٨٧٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن عبد اللَّه بن أبي السفر عن الشعبي في رجل أراد أن تبين منه امرأته قال: يطلقها ثلاثًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو اس کی بیوی اس سے جدا ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18746
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18746، ترقيم محمد عوامة 18096)