کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک ایک نشست میں تین طلاقیں دینا مکروہ ہے، لیکن یہ واقع ہوجائیں گی
١٨٧٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا سهل بن يوسف عن حميد عن واقع بن (سحبان) (١) قال: سئل عمران بن حصين عن رجل طلق امرأته ثلاثًا في مجلس ⦗١٠٢⦘ قال: أثم بربه، وحرمت عليه امرأته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ایسا کرنے سے انسان اللہ کی بارگاہ میں گناہ گار ہوتا ہے لیکن اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی۔
١٨٧٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن ابن عباس أتاه رجل فقال: (إن عمي طلق امرأته ثلاثًا فقال) (١): إن عمك عصى اللَّه، (فأندمه) (٢) اللَّه، فلم يجعل له مخرجًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میرے چچا نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ تیرے چچا نے اللہ کی نافرمانی کی ہے، اللہ اسے رسوا کرے، اب اس کے پاس کوئی چارا نہیں۔
١٨٧٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن مسهر عن شقيق بن أبي عبد اللَّه عن أنس قال: كان عمر إذا أتي برجل قد طلق امرأته ثلاثًا في مجلس أوجعه ضربًا وفرق بينهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دی تھیں، آپ نے اسے سزا دی اور دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔
١٨٧٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد قال: قلت للقاسم بن محمد الرجل يريد أن يطلق امرأته ثلاثًا قال: يطلقها في مقاعد مختلفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دینا چاہے تو کیا یہ درست ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مختلف نشستوں میں اسے طلاق دے۔
١٨٧٤١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أسباط بن محمد عن أشعث عن نافع قال: قال ابن عمر: من طلق امرأته ثلاثًا فقد عصى ربه وبانت منه امرأته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اس کی بیوی اس سے جدا ہوجائے گی۔
١٨٧٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في ⦗١٠٣⦘ رجل (طلق) (١) امرأته ثلاثًا جميعًا قال: إن (٢) فعل فقد عصى ربه، وبانت منه امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اس کی بیوی اس سے جدا ہوجائے گی۔
١٨٧٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة عن ابن عون عن (الحسن) (١) قال: كانوا (٢) ينكلون من طلق ثلاثًا في مقعد واحد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسلاف ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے والے کو سزا دیتے تھے۔