حدیث نمبر: 18612
١٨٦١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن عبد اللَّه بن حفص عن يعلى بن مرة قال: مررت على رسول اللَّه ﷺ وأنا متخلق بالزعفران فقال لي: "يا يعلى! هل لك امرأة؟ " فقلت: لا، قال: " (فاذهب) (١) فاغسله ثم اغسله ثم لا تعد" قال: فغسلته (ثم غسلته) (٢) ثم لم أعد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے میں نے زعفران لگایا ہوا تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ اے یعلیٰ ! کیا تمہاری بیوی ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جاؤ اسے دھو لو، اسے دھولو اور پھر دوبارہ مت لگانا۔ میں گیا، میں نے اسے دھویا، پھر دھویا اور پھر دوبارہ کبھی نہ لگایا۔
حدیث نمبر: 18613
١٨٦١٣ - حدثنا معتمر وجرير عن (الركين) (١) عن القاسم بن حسان عن (عمه) (٢) عبد الرحمن (بن حرملة) (٣) عن عبد اللَّه أن نبي اللَّه ﷺ (٤) كره الصفوة يعني الخلوق (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے زرد رنگ کے استعمال کو مردوں کے لئے ناپسند قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 18614
١٨٦١٤ - حدثنا ابن علية عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس أن النبي ﷺ[نهى عن التزعفز (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفران لگانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 18615
١٨٦١٥ - حدثنا ابن علية عن (١) أيوب عن الحسن أن النبي ﵇] (٢) رأى (سواد) (٣) بن عمرو متخلقًا قال: "حط حط، ورس (ورس) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواد بن عمرو رحمہ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے زرد رنگ لگایا ہوا تھا آپ نے ان سے فرمایا کہ اس میں دوسرا رنگ ملا لو، اس میں دوسرا رنگ ملالو، ورس کا استعمال کرو، ورس کا استعمال کرو۔
حدیث نمبر: 18616
١٨٦١٦ - حدثنا ابن علية عن هشام عن كثير مولى ابن سمرة عن ابن عباس ⦗٦٩⦘ قال: لا تقرب الملائكة متضمخًا بخلوق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ فرشتے اس شخص کے پاس نہیں جاتے جس نے خلوق نامی زرد خوشبو لگارکھی ہو۔
حدیث نمبر: 18617
١٨٦١٧ - حدثنا أبو داود عن ابن عون عن محمد أن الأشعري لما قدم البصرة رأى (١) قيس بن عباد وعليه أثر صفرة -أو قال: خلوق- قال: فنظر إليه فانطلق (يغسله) (٢) (ثم) (٣) جاء، فقال الأشعري: ما أسرع ما (أعتب) (٤) هذا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ جب بصرہ آئے تو قیس بن عباد کو دیکھا انہوں نے زرد بوٹی لگا رکھی تھی۔ حضرت اشعری رحمہ اللہ نے ان کی طرف دیکھا تو وہ گئے اور اسے دھو کر آگئے۔ حضرت اشعری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ کتنی جلدی سمجھنے والا ہے !
حدیث نمبر: 18618
١٨٦١٨ - حدثنا ابن فضيل عن (يزيد) (١) بن أبي زياد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أنه دعي إلى عرس (بليل) (٢) فادهن بدهن فيه صفرة (فأصبح) (٣) وفي لحيته صفرة، فغسلها فلم (يذهب) (٤) فغسلها (بصابون) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کو ایک رات ایک شادی میں بلایا گیا، وہاں انہوں نے ایک خوشبو لگائی جس میں زردی تھی، صبح ان کی داڑھی میں زردی تھی۔ انہوں نے اسے دھویا لیکن وہ صاف نہ ہوئی، انہوں نے پھر اسے صابن سے دھویا۔
حدیث نمبر: 18619
١٨٦١٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (نا) (١) حماد بن سلمة عن عطاء الخرساني عن يحيى بن (يعمر) (٢) عن (عمار) (٣) قال: قدمت من السفر ⦗٧٠⦘ (فمسحني) (٤) أهلي بشيء من (صفرة) (٥) فأتيت رسول اللَّه ﷺ فسلمت عليه فلم يرد علي ولم (يرحب) (٦) بي وقال: " (انطلق) (٧) فاغسل عنك هذا"، فذهبت فغسلته (فبقي) (٨) (في) (٩) (من) (١٠) أثره شيء (فأتيته) (١١) فسلمت (عليه) (١٢) فلم يرد عليّ ولم يرحب بي فقال: "انطلق فاغسل عنك هذا"، فذهبت فغسلته ثم جئت فسلمت عليه (فرحب) (١٣) بي وقال: "إن الملائكة لا تقرب جنازة كافر ولا جنب ولا (متضمخ) (١٤) (بخلوق) (١٥) " (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر سے واپس آیا تو میری بیوی نے مجھے کوئی ایسی چیزلگادی جس میں زردی ملی ہوئی تھی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے سلام کیا لیکن آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا اور مجھے خوش آمدید بھی نہیں کہا۔ آپ نے فرمایا کہ جاؤ اور اسے دھو کر آؤ۔ میں گیا میں نے اسے دھویا لیکن اس کا اثر باقی رہ گیا۔ میں آیا میں نے سلام کیا لیکن آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا اور مجھے خوش آمدید بھی نہ کہا۔ پھر فرمایا کہ جاؤ اور اسے دھو کر آؤ۔ میں گیا میں نے اسے دھویا پھر میں آیا میں نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خوش آمدید کہا اور فرمایا کہ فرشتے کافر کے جنازے، جنبی اور زرد رنگ لگانے والے مرد کے پاس نہیں جاتے۔