کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: یہودیہ، نصرانیہ یا فاحشہ کے دودھ سے رضاعت ثابت ہونے کا بیان
١٨٥٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) معن بن عيسى عن أبي سلام الفهري ⦗٥٠⦘ قال: سمعت علي بن عبد اللَّه بن عباس ينهى مسلمًا أن يراضع (نصرانيًا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما رحمہ اللہ نے مسلمان کو نصرانی کا رضاعی بھائی بننے سے منع کیا ہے۔
١٨٥٦١ - حدثنا وكيع عن علي بن صالح (عن) (١) غالب أبي (الهذيل) (٢) عن أبي جعفر أنه كره أن (ترضع) (٣) اليهودية والنصرانية الصبي وقال: إنها تشرب الخمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ یہودیہ یا نصرانیہ کسی بچے کو دودھ پلائیں، فرمایا کہ یہ شراب پیتی ہیں۔
١٨٥٦٢ - حدثنا عبد السلام بن (حرب) (١) عن ليث عن مجاهد قال: كان يكره أن (ترضع) (٢) (امرأته) (٣) (بلبن) (٤) الفجور.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ کوئی عورت بدکاری کے ذریعے اترنے والا دودھ کسی بچے کو پلائے۔
١٨٥٦٣ - حدثنا شريك عن إبراهيم قال: لا بأس برضاع (الزانية) (١) أو لبن المجوسية.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں زانیہ کی رضاعت یا مجوسیہ کے دودھ میں کوئی حرج نہیں۔