کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک صرف اس بچے کے دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے جس کی عمر دو سال سے کم ہو
١٧٩٢٧ - حدثنا حفص عن الشيباني عن أبي الضحى عن أبي عبد الرحمن (١) عن ابن مسعود قال: لا رضاع إلا ما كان في الحولين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صرف اس بچے کے دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے جس کی عمر دو سال سے کم ہو۔
١٧٩٢٨ - [حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: (قال) (١) عبد اللَّه: ⦗٤٤٢⦘ لا رضاع إللا ما كان في الحولين] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صرف اس بچے کے دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے جس کی عمر دو سال سے کم ہو۔
١٧٩٢٩ - حدثنا جرير عن ليث عن زبيد قال: قال علي: لا يحرم من الرضاع إلا ما كان في الحولين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صرف اس بچے کے دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے جس کی عمر دو سال سے کم ہو۔
١٧٩٣٠ - [حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن ابن عباس قال: لا رضاع إلا ما كان في الحولين] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صرف اس بچے کے دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے جس کی عمر دو سال سے کم ہو۔
١٧٩٣١ - حدثنا ابن فضيل عن عاصم عن عكرمة عن ابن عباس قال: لا رضاع [بعد الفصال (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس بچے کا دودھ چھڑوا دیا گیا ہو اس کے دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
١٧٩٣٢ - حدثنا ابن عيينة عن عبد اللَّه بن دينار عن ابن عمر قال: لا رضاع] (١) إلا ما كان في الصغر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صرف بچے کے دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے۔
١٧٩٣٣ - حدثنا وكيع عن يزيد بن إبراهيم عن الحسن قال: قال عمر: لا رضاع بعد الفصال (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس بچے کا دودھ چھڑوا دیا گیا ہو اس کے دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
١٧٩٣٤ - حدثنا وكيع عن أبي (جناب) (١) عن إسماعيل بن رجاء عن النزال ابن (سبرة) (٢) عن علي قال: لا رضاع بعد الفصال (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس بچے کا دودھ چھڑوا دیا گیا ہو اس کے دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
١٧٩٣٥ - حدثنا عبدة عن هشام (بن) (١) عروة عن يحيى بن عبد الرحمن بن (حاطب) (٢) (حدثه) (٣) أنه سأل أم سلمة (عن) (٤) الرضاع فقالت: لا رضاع إلا ما كان في (المهد) (٥) قبل الفطام (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رضاعت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ رضاعت صرف اس وقت ثابت ہوتی ہے جب کہ بچہ گود میں ہو اور اس کا دودھ چھڑوایا نہ گیا ہو۔
١٧٩٣٦ - حدثنا عبدة عن هشام عن أبيه أن أبا هريرة سئل عن الرضاع فقال: لا يحرم من الرضاع إلا ما فتق الأمعاء وكان في الثدي قبل الفطام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رضاعت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ رضاعت اتنا دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے جو انتڑیوں کو سیراب کردے۔ اور بچے کا دودھ چھڑانے سے پہلے چھاتی میں ہو۔
١٧٩٣٧ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن أبيه عن حجاج (بن حجاج) (١) عن أبي هريرة بمثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
١٧٩٣٨ - [حدثنا ابن نمير قال: (حدثنا) (١) هشام بن عروة عن أبيه عن ⦗٤٤٤⦘ حجاج (ابن حجاج) (٢) عن أبي هريرة بمثله] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
١٧٩٣٩ - حدثنا ابن مهدي وأبو أسامة عن سفيان عن الأعمش عن إبراهيم أن علقمة مر بامرأة وهي ترضع صبيًا لها بعد الحولين فقال: لا (تسقيه داءك) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ ایک عورت کے پاس سے گذرے جو اپنے بچے کو دو سال کے بعد دودھ پلا رہی تھی۔ انہوں نے اس سے فرمایا کہ اسے اپنی بیماری مت پلاؤ۔
١٧٩٤٠ - حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء قال: إذا (فطم) (١) الصبي فلا رضاع بعد الفطام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جس بچے کا دودھ چھڑوا دیا گیا ہو اس کے دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
١٧٩٤١ - حدثنا ابن نمير عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: لا يحرم من الرضاع إلا ما كان في الصغر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حرمت رضاعت صرف بچپن میں دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے۔
١٧٩٤٢ - حدثنا أبو خالد عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: لا رضاع إلا ما كان في المهد وإلا ما أنبت اللحم والدم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ رضاعت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب بچے کو بچپن میں دودھ پلایا جائے اور جس کی مقدار اتنی ہو جس سے گوشت اور خون بنے۔
١٧٩٤٣ - حدثنا حفص عن الشيباني عن الشعبي قال: ما كان من (رضاع) (١) أو سعوط في السنتين فهو رضاع وما كان بعد فليس برضاع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ دو سال کے اندر دودھ پلایا جائے تو حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے۔ اس کے بعد دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔