کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
حدیث نمبر: 17915
١٧٩١٥ - حدثنا علي بن مسهر عن سعيد عن قتادة عن جابر بن زيد عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ (أريد) (١) على ابنة حمزة بن عبد المطلب فقال: "إنها ابنة أخي من الرضاعة وإنه يحرم من الرضاعة ما يحرم من (النسب) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ سے فرمائش کی گئی کہ آپ حضرت حمزہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سے نکاح کرلیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ میری رضاعی بہن ہیں اور جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 17916
١٧٩١٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (سعد) (١) بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن عن علي قال: قلت: يا رسول اللَّه مالك (تنوق) (٢) في قريش وتدعنا قال: "عندكم شيء؟ " قلت: نعم! بنت حمزة فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنها لا تحل لي، إنها بنت أخي من الرضاعة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا وجہ ہے کہ آپ قریش میں شادی کی رغبت رکھتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی ایسی خاتون ہیں ؟ میں نے کہا جی ہاں، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے لئے حلال نہیں، کیونکہ وہ میری رضاعی بہن ہیں۔
حدیث نمبر: 17917
١٧٩١٧ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت: أتاني عمي من الرضاعة أفلح (بن) (١) (أبي القعيس) (٢) يستأذن علي بعد ما ضرب الحجاب، فابيت أن آذن له حتى دخل عليّ رسول اللَّه ﷺ فقال: "إنه عمك فأذني له" (قالت) (٣): إنما (أرضعتني) (٤) المرأة ولم يرضعني (الرجل) (٥) قال: "تربت" (٦) يداك أو يمينك" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میرے پاس میرے رضاعی چچا افلح بن ابی القعیس آئے۔ اس وقت پردے کے احکام نازل ہوچکے تھے انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں منع کردیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ وہ تمہارے چچا ہیں، تم انہیں ملاقات کی اجازت دے دو ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ حضور ﷺ نے فرمایا تم نے عجیب بات کہی ہے۔
حدیث نمبر: 17918
١٧٩١٨ - حدثنا (ابن) (١) نمير عن هشام (بن) (٢) عروة عن أبيه عن زينب بنت (أم) (٣) سلمة (عن) (أم سلمة أن) (٤) (عن) (٥) أم حبيبة قالت: يا رسول اللَّه! ⦗٤٣٩⦘ هل لك في أختي ابنة أبي سفيان؟ قال: "إنها لا تحل لي"، قالت: فإنه قد بلغني (أنك) (٦) (تخطب) (٧) درة بنت أبي سلمة قال: "بنت (أم) (٨) سلمة؟ " قالت: نعم! قال: "واللَّه إن لم تكن ربيبتي في حجري ما حلت لي، إنها ابنة أخي من الرضاعة، أرضعتني وأباها ثويبة فلا (تعرضن) (٩) عليّ بناتكن ولا (أخواتكن) (١٠) " (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا آپ میری بہن یعنی ابو سفیان کی بیٹی سے نکاح کرنا پسند کریں گے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ میرے لئے حلال نہیں۔ حضرت ام حبیبہ نے عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے درہ بنت ابی سلمہ کے لئے نکاح کا پیغام دیا ہے۔ حضور ﷺ نے استفسار فرمایا کہ ابو سلمہ کی بیٹی ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! اگر وہ میری پرورش میں نہ بھی ہوتی تو میرے لئے حلال نہیں تھی، کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔ مجھے اور اس کے والد کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ مجھے اپنی بہنوں اور بیٹیوں سے نکاح کی دعوت نہ دو ۔
حدیث نمبر: 17919
١٧٩١٩ - حدثنا أبو معاوية عن هشام عن أبيه (قال) (١): كانت عائشة تحرم من الرضاعة مما (تحرم) (٢) من الولادة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مذہب یہ تھا کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 17920
١٧٩٢٠ - حدثنا ابن مبارك عن موسى بن أيوب قال: حدثني عمي أياس بن عامر قال: قال علي: لا تنكح من أرضعته امرأة أخيك و (لا أمرأة) (١) أبيك ولا أمرأة ابنك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس عورت سے شادی نہ کرو جسے تمہارے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہو، نہ اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرو اور نہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرو۔
حدیث نمبر: 17921
١٧٩٢١ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن (عن) (١) عبد الأعلى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 17922
١٧٩٢٢ - حدثنا أبو معاوية عن داود عن أبي معشر عن إبراهيم قال: يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 17923
١٧٩٢٣ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين عن عبد اللَّه (١) بن عتبة قال: أراه عن عبد اللَّه قال: يحرم من (الرضاعة) (٢) ما يحرم من النسب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 17924
١٧٩٢٤ - حدثنا ابن نمير عن حجاج عن (الحكم) (١) عن (عراك) (٢) بن مالك عن عروة عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "يحرم من ⦗٤٤١⦘ الرضاعة ما يحرم من (النسب) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 17925
١٧٩٢٥ - حدثنا الفضل بن دكين عن إسرائيل عن إبراهيم (بن) (١) عبد الأعلى قال: سمعت سويد بن غفلة يقول: يحرم من الرضاعة ما يحرم من (النسب) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 17926
١٧٩٢٦ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) عن إسرائيل عن إبي إسحاق عن البراء أنه قيل للنبي ﷺ: هل لك في بنت حمزة؟ فقال: "إنها لا تحل لي، إنها ابنة أخي من الرضاعة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کرلیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ میرے لئے حلال نہیں۔ وہ میری رضاعی بہن ہے۔