کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا کیا حکم ہے جس کا کسی عورت سے نکاح ہو لیکن وہ اپنی بیوی کے ساتھ شرعی ملاقات سے پہلے کہیں زنا کربیٹھے؟
حدیث نمبر: 17725
١٧٧٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) أبو الأحوص عن سماك (٢) عن (حنش) (٣) ابن المعتمر قال: (أُتي) (٤) (علي برجل) (٥) قد أقر على نفسه (بالزنى) (٦) فقال له ⦗٣٩٩⦘ (علي) (٧): أحصنت؟ قال: نعم! قال: إذن ترجم، قال: فرفعه إلى السجن فلما كان (العشي) (٨) دعا به (فقص) (٩) أمره على الناس فقال رجل من الناس: إنه قد تزوج امرأة لم يدخل بها، ففرح بذلك علي فضربه الحد وفرق بينه وبين امرأته وأعطاها نصف الصداق فيما يرى سماك (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنش بن معتمر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے زنا کا اقرار کیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کیا تم شادی شدہ ہو ؟ اس نے کہا جی ہاں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اسے سنگسار کردیا جائے۔ اسے جیل میں بند کردیا گیا۔ شام کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کا واقعہ لوگوں سے بیان کیا تو ایک آدمی نے کہا کہ اس نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے لیکن ابھی شرعی ملاقات نہیں کی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس بات پر خوش ہوئے اور اسے سنگسار کرنے کے بجائے صرف حد جاری کرنے کا حکم دیا اور اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرادی اور عورت کو نصف مہر دلوایا۔
حدیث نمبر: 17726
١٧٧٢٦ - حدثنا ابن إدريس عن أشعث عن أبي الزبير عن جابر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر باکرہ (منکوحہ) زنا کا ارتکاب کرے تو اسے کوڑے مارے جائیں گے، اس کے خاوند سے اس کی جدائی کرادی جائے گی اور اسے مہر نہیں ملے گا۔ پھر حسن نے یہ آیت پڑھی { وَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ لِتَذْہَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَیْتُمُوہُنَّ إلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ }۔
حدیث نمبر: 17727
١٧٧٢٧ - وعن أشعث عن الحسن أن البكر إذا زنت جلدت وفرق بينها وبين زوجها وليس لها شيء ثم (تأول) (١) الحسن هذه الآية: ﴿وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [النساء: ١٩].
حدیث نمبر: 17728
١٧٧٢٨ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: يفرق بينهما ولا صداق لها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں ان کے درمیان جدائی کرادی جائے گی اور عورت کو مہر نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 17729
١٧٧٢٩ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن في الرجل يتزوج المرأة ثم (تزني) (١) قبل أن يدخل بها، قال: يفرق بينهما ولا صداق لها وجلد مائة ونفي سنة وإن هو زنى فرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے عورت سے نکاح کیا پھر وہ عورت دخول سے پہلے زنا کا ارتکاب کر بیٹھی تو دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی اور عورت کو مہر نہیں ملے گا۔ اسے سو کوڑے مارے جائیں گے، ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے گا اور اگر مرد نے زنا کا ارتکاب کیا تو دونوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 17730
١٧٧٣٠ - حدثنا جرير عن الشيباني عن الشعبي قال: هي امرأته يقام (عليها) (١) الحد، إن شاء طلق وإن شاء أمسك، كما أنه لو فجر لم تنزع عنه امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں وہ عورت اسی کی بیوی رہے گی اس پر حد جاری ہوگی۔ اگر وہ چاہے تو اسے طلاق دے دے اور اگر چاہے تو روک کر رکھے۔ یہ اسی طرح ہے کہ زنا کرنے والے شخص سے اس کی بیوی دور نہیں کی جاتی۔
حدیث نمبر: 17731
١٧٧٣١ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم في رجل زنى قبل أن يدخل بامرأته، فكان من رأيه أن لا يفرق بينه وبين امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی سے شرعی ملاقات سے قبل زنا کا ارتکاب کیا تو اس کی بیوی سے اس کی علیحدگی نہیں کرائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 17732
١٧٧٣٢ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري في (رجل) (١) تزوج (امرأة) (٢) فأصاب أحدهما فاحشة قبل أن يدخل بها قال: يجلد ولا يفرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر ایک مردو عورت کا نکاح ہوا اور شرعی ملاقات سے پہلے کسی ایک نے زنا کا ارتکاب کیا تو انہیں کوڑے لگائے جائیں گے لیکن دونوں کے درمیان جدائی نہیں کرائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 17733
١٧٧٣٣ - حدثنا (ابن فضيل عن) (١) ابن أبي ليلى عن نافع عن صفية بنت أبي عبيد (قالت) (٢): تزوج رجل (امرأة) (٣) ثم فجر بأخرى قبل أن يدخل بامرأته فجلده أبو بكر مائة ونفاه سنة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفیہ بنت ابی عبید فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے کسی عورت سے نکاح کرنے کے بعدشرعی ملاقات سے پہلے کسی دوسری عورت سے زنا کیا تو حضرت ابوبکر نے اسے سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا۔