کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: قرآن مجید کی آیت: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ}’’تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں‘‘ کا بیان
١٧٤٩٥ - حدثنا ابن عيينة عن ابن المنكدر سمع جابرًا يقول: كانت اليهود تقول: إذا أتى الرجل (١) امرأته (في) (٢) قبلها (٣) من دبرها كان الولد أحول فنزلت: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ﴾ (٤) (٥) [البقرة: ٢٢٣].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ یہود کہا کرتے تھے کہ جب آدمی عورت کے پیچھے کھڑا ہوکر آگے جماع کرے تو بچہ بھینگا ہوتا ہے۔ اس پر قرآن مجید کی آیت : { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں “ نازل ہوئی۔
١٧٤٩٦ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق عن زائدة بن عمير عن ابن عباس في قوله (١): ﴿نِسَاؤُكُمْ (حَرْثٌ لَكُمْ) (٢)﴾ قال: من شاء أن يعزل فليعزل ومن شاء أن لا يعزل فلا يعزل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت : { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ }” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جو عزل کرنا چاہے کرلے اور جو نہ کرنا چاہے نہ کرے۔
١٧٤٩٧ - حدثنا الثقفي عن خالد عن عكرمة (قال) (١): يأتيها كيف شاء قائم وقاعد، وعلى كل حال يأتيها ما لم يكن في دبرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ آدمی جس طرح چاہے کھڑے ہوکر یابیٹھ کر اپنی بیوی سے جماع کرسکتا ہے البتہ لواطت نہیں کرسکتا۔
١٧٤٩٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن إسماعيل عن أبي صالح: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ قال: إن شئت فأتها (مستلقية) (١) وإن شئت (فمنحرفة) (٢) وإن شئت فباركة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح قرآن مجید کی آیت : { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ‘ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر تو چاہے تولیٹ کر اگر چاہے توپہلو کے بل اور اگر چاہے تو گھٹنوں کے بل اس سے جماع کرسکتا ہے۔
١٧٤٩٩ - حدثنا مروان بن معاوية عن (الزبرقان) (١) عن أبي رزين (قال: سمعته) (٢) يقول: ﴿فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ قال: من قبل الطهر ولا (تأتوهن) (٣) من قبل الحيض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رزین قرآن مجید کی آیت : { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ طہر کی طرف سے آؤ اور حیض کی طرف سے نہ آؤ۔
١٧٥٠٠ - حدثنا وكيع عن سلمة بن (نبيط) (١) عن الضحاك في قوله: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ (فَأْتُوا حَرْثَكُمْ) (٢) أَنَّى شِئْتُمْ﴾ قال: طهرًا غير حيض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک قرآن مجید کی آیت : { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ طہر کی طرف سے آؤ اور حیض کی طرف سے نہ آؤ۔
١٧٥٠١ - حدثنا المحاربي عن ليث عن مجاهد في قوله: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ قال: (ظهرًا) (١) ببطن كيف شئت إلا في دبر أو محيض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت : { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ دبر اور حیض کے علاوہ جس طرح چاہو آؤ۔
١٧٥٠٢ - حدثنا قبيصة قال: أخبرنا سفيان عن عبد اللَّه بن عثمان بن (خثيم) (١) عن ابن سابط عن حفصة عن أم سلمة قالت: لما قدم المهاجرون المدينة تزوجوا في الأنصار فكانوا (يجبونهن) (٢) وكانت الأنصار لا تفعل ذلك (فقالت امرأة) (٣) منهن لزوجها: حتى أسأل رسول اللَّه ﷺ (٤)، فاستحيت أن تسأله فسألته (أنا) (٥) ⦗٣٤٥⦘ (فدعاها) (٦) فقرأ عليها: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ صمامًا (واحدًا) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب مہاجرین مدینہ آئے تو انہوں نے انصاری عورتوں سے شادیاں کیں۔ مہاجر لوگ عورتوں کو گھٹنوں کے بل بٹھاکر ان کے سر زمین پر رکھ کر جماع کرتے تھے۔ جبکہ انصار ایسا نہیں کرتے تھے۔ ایک انصار عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ اس بارے میں حضور ﷺ سے سوال کیا جائے۔ وہ عورت تو سوال کرنے سے شرمائی میں نے سوال کیا تو آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی : { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“ پھر فرمایا کہ آمد کا سوراخ ایک ہی ہے۔
١٧٥٠٣ - حدثنا عباد بن (العوام) (١) عن الحصين عن مرة (الهمداني) (٢) أن بعصن اليهود (أتى) (٣) بعض المسلمين قال: تأتون النساء وراءهن؟ قال: كأنه كره الإبراك قال: فذكروا ذلك فنزلت هذه الآية: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ فرخص اللَّه للمسلمين أن يأتوا النساء في الفروج كيف شاؤ (وا) (٤) (٥) من بين أيديهن وإن شاؤوا من خلفهن (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرہ ہمدانی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک یہودی ایک مسلمان سے ملا اور اس سے کہا کہ تم اپنی بیویوں کے پیچھے سے ان سے جماع کرتے ہو ؟ گویا اس نے اس انداز کو ناپسند کیا کہ آدمی پیچھے کھڑا ہوکر بیوی کی شرمگاہ میں دخول کرے۔ اس موقع پر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی : { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو رخصت دی کہ اپنی بیویوں کی شرم گاہ میں جیسے چاہیں جماع کرسکتے ہیں خواہ آگے سے خواہ پیچھے سے۔
١٧٥٠٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن مرة: ﴿فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ قال: كانت اليهود يسخرون من المسلمين في إتيانهم النساء فأنزل اللَّه ﵎: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرہ قرآن مجید کی آیت { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ }” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“ کے بارے میں فرماتے ہیں یہود مسلمانوں سے یہ مذاق کیا کرتے تھے کہ وہ پیچھے کھڑے ہوکر عورتوں سے جماع کرتے ہیں اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“ یعنی شرمگاہوں میں جس طرح چاہو جماع کرو۔
١٧٥٠٥ - حدثنا محمد بن الحسن قال: (نا) (١) شريك عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير في قوله (تعالى) (٢): ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾، قال: يأتيها من بين يديها ومن خلفها ما لم يكن في الدبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر قرآن مجید کی آیت { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لواطت نہ کرے اس کے علاوہ جیسے چاہے بیوی سے مل سکتا ہے۔
١٧٥٠٦ - حدثنا ابن فضيل عن (ليث عن) (١) عيسى بن (سنان) (٢) عن سعيد بن المسيب في قوله (٣): ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾، قال: إن شئت فأعزل وإن شئت فلا تعزل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب قرآن مجید کی آیت { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو عزل کرو اور اگر چاہو تو نہ کرو۔
١٧٥٠٧ - حدثنا وكيع عن علي بن علي قال: سمعت الحسن يقول: كان المشركون لا (يألون) (١) ما شددوا (على) (٢) المسلمين ويقولون: لا يحل لكم أن تأتوا النساء إلا من وجه واحد فأنزل اللَّه (تعالى) (٣): ﴿فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ مشرکین مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے کہ تمہارے لئے بہت سختیاں ہیں کہ تم اپنی بیوی سے صرف ایک رخ سے جماع کرسکتے ہو، اس موقع پر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی : { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“
١٧٥٠٨ - حدثنا وكيع عن خالد بن رباح عن عكرمة قال: من قبل الفرج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ قرآن مجید کی آیت { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یعنی شرمگاہ کی طرف سے۔
١٧٥٠٩ - حدثنا وكيع عن أبي حنيفة عن (١) (كثير) (٢) الرماح عن أبي ذراع ⦗٣٤٧⦘ قال: سألت ابن عمر عن قوله: ﴿فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ قال: إن شئت عزل وإن شئت غير عزل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذراع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے قرآن مجید کی آیت { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر تم چاہو تو عزل کرو اور اگر چاہو تو نہ کرو۔
١٧٥١٠ - حدثنا شبابة عن ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد في قوله (تعالى) (١): ﴿فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ قال: (ائتوا) (٢) النساء في أقبالهن على كل نحو.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اپنی بیویوں کی شرمگاہ میں جس طرح چاہو جماع کرو۔