کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک خاوند آزاد ہو یا غلام، باندی کو آزاد ہونے کے بعد اختیار ہوگا
١٧٣٤٣ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسور عن عائشة أنها اشترت بريرة فأعتقتها فخيرها رسول اللَّه ﷺ وكان لها زوج حر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدا اور پھر انہیں آزاد کردیا۔ حضور ﷺ نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کے باقی رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار دیاحالان کہ ان کے خاوند آزاد تھے۔
١٧٣٤٤ - حدثنا ابن عيينة عن ابن طاوس عن أبيه قال: تخير وإن كانت تحت رجل من قريش.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ خاوند آزاد ہو یا غلام، باندی کو آزاد ہونے کے بعد اختیار ہوگا۔ خواہ اس کا خاوند قریشی ہی کیوں نہ ہو۔
١٧٣٤٥ - حدثنا ابن مبارك عن هشام عن ابن سيرين قال: لها الخيار حرًا كان زوجها أو عبدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ خاوند آزاد ہو یا غلام، باندی کو آزاد ہونے کے بعد اختیار ہوگا۔
١٧٣٤٦ - حدثنا حفص عن عاصم عن الشعبي قال: تخير (حرًا كان) (١) زوجها أو عبدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ خاوند آزاد ہو یا غلام، باندی کو آزاد ہونے کے بعد اختیار ہوگا۔
١٧٣٤٧ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن حرب بن أبي العالية عن ابن أبي نجيح عن مجاهد (قال) (١): لها الخيار وإن كانت تحت أمير المؤمنين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ خاوند آزاد ہو یا غلام، باندی کو آزاد ہونے کے بعد اختیار ہوگا۔ خواہ اس کا خاوند امیر المؤمنین ہی کیوں نہ ہو۔
١٧٣٤٨ - حدثنا ابن مبارك عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ خاوند آزاد ہو یا غلام، باندی کو آزاد ہونے کے بعد اختیار ہوگا۔
١٧٣٥٠ - [حدثنا علي بن مسهر عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر في (المملوكة) (١) تكون تحت العبد فتعتق قال: لها الخيار ما لم يمسها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی باندی کسی غلام کی بیوی ہو اور وہ باندی آزاد ہوجائے تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب تک خاوند نے بیوی کو چھوا نہ ہو اس وقت تک اسے خیار ہے۔
١٧٣٥١ - حدثنا ابن مبارك عن حنظلة قال: سمعت طاوسًا وسئل عن (الأمة) (١) تعتق ولها زوج حر تخير؟ (قال) (٢): لا علم لي ولكنها إذا كانت تحت عبد خيرت] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی باندی کو آزاد کیا گیا اور اس کا خاوند آزاد ہو تو کیا اسے خیار دیا جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس بارے میں مجھے علم نہیں البتہ اگر وہ کسی غلام کی بیوی ہو تو اسے اختیار دیا جائے گا۔
١٧٣٥٢ - حدثنا عبدة عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم قال: تخبر حرًا كان زوجها أو عبدًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ خاوند آزاد ہو یا غلام، باندی کو آزاد ہونے کے بعد اختیار ہوگا۔