کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر آدمی کسی عورت سے شادی کرے اورپھر اسے کوڑھ یا پھلبہری ہونے کا پتہ چلے ، اور وہ اس سے دخول کرلے تو کیاحکم ہے؟
حدیث نمبر: 17080
١٧٠٨٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن عمر قال: من تزوج امرأة وبها برص أو جذام أو جنون فدخل بها فلها الصداق بما (استحل) (١) من فرجها، وذلك غرم على وليها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی کسی عورت سے شادی کرے، پھر اسے پتہ چلے کہ عورت کو کوڑھ، پھلبہری یا جنون ہے ، لیکن وہ اس عورت سے دخول کرے تو فرج کے استحلال کی وجہ سے مرد پر مہر واجب ہوگا۔ جس کا تاوان عورت کے ولی سے لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17080
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17080، ترقيم محمد عوامة 16550)
حدیث نمبر: 17081
١٧٠٨١ - حدثنا ابن إدريس عن أبيه عن الحكم قال: كان (علي) (١) يقول في (المجنونة) (٢) والبرصاء: إن دخل فهي امرأته وإن لم يدخل فرق بينهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے پاگل یا پھلبہری کی شکار عورت سے شادی کی پھر اس سے دخول کیا تو وہ اس کی بیوی ہے اور اگر دخول نہ کیا تو دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17081
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17081، ترقيم محمد عوامة 16551)
حدیث نمبر: 17082
١٧٠٨٢ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن عمرو بن دينار عن جابر بن زيد قال: أربع لا (يجزن) (١) في بيع) (٢) ولا نكاح: البرصاء والمجنونة والمجذومة وذات القرن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ چار عورتوں سے نہ نکاح جائز ہے نہ باندی ہونے کی صورت میں انہیں خریدنا درست ہے : پھلبہری کا شکار، پاگل، کوڑھی ، رحم یا شرمگاہ کی بیماری کا شکار عورت۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17082
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17082، ترقيم محمد عوامة 16552)
حدیث نمبر: 17083
١٧٠٨٣ - حدثنا ابن علية عن خالد أن رجلًا (تزوج) (١) امرأة فدخل بها ثم وجد بها عيبًا فكتب إلى عمر بن عبد العزيز في (ذلك) (٢)، فكتب (له) (٣) أنه قد (ائتمنهم) (٤) على ما هو أعظم من ذلك فأجازها عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی، پھر اس میں کوئی عیب معلوم ہوا۔ تو اس بارے میں اس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا۔ انہوں نے جواب میں فرمایا کہ اس عورت کو اپنے پاس ہی رکھو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17083
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17083، ترقيم محمد عوامة 16553)
حدیث نمبر: 17084
١٧٠٨٤ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس [عن الحسن سئل عن الرجل يتزوج المرأة فيدخل (بها) (١) (فيظهر) (٢) عليها داء أنه كان يوجبها عليه.
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر آدمی کسی عورت سے شادی کرے اور اس سے دخول بھی کرلے، پھر بعد میں کوئی بیماری ظاہر ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کی ذمہ داری مرد پر ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17084
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17084، ترقيم محمد عوامة 16554)
حدیث نمبر: 17085
١٧٠٨٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمرو بن ميمون عن عمر بن عبد العزيز قال: ليس له إلا (أمانة) (١) أصهاره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ مرد کے لئے صرف رشتے داری کی امانت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17085
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17085، ترقيم محمد عوامة 16555)
حدیث نمبر: 17086
١٧٠٨٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: الحرة لا ترد من عيب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کسی عیب کی وجہ سے آزادعورت کو واپس نہیں کیا جاسکتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17086
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17086، ترقيم محمد عوامة 16556)
حدیث نمبر: 17087
١٧٠٨٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن إسماعيل عن الشعبي عن شريح أنه كان يعوض البرصاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت شریح پھلبہری کا شکار عورت کا عوض مرد کو دلایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17087
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17087، ترقيم محمد عوامة 16557)
حدیث نمبر: 17088
١٧٠٨٨ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول والزهري قالا في رجل تزوج امرأة فدخل (بها) (١) فرأى بها جنونًا أو جذامًا أو برصًا أو غفلًا: أنها ترد من هذا، ولها الصداق الذي (استحل) (٢) به فرجها العاجل والآجل، وصداقها على من غره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول اور حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے کسی عورت سے شادی کی، پھر اس میں پاگل پن، کوڑھ، پھلبہری یا رحم کی بیماری ظاہرہوئی تو اس عورت کو واپس کیا جائے گا اور اسے عاجل یا آجل مہر ملے گا جس سے آدمی نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا۔ اس مہر کی ذمہ داری اس شخص پر ہوگی جس نے مرد کو رشتہ کرنے پر ابھارا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17088
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17088، ترقيم محمد عوامة 16558)
حدیث نمبر: 17089
١٧٠٨٩ - حدثنا ابن فضيل عن جميل عن عبد اللَّه بن كعب أو كعب بن عبد اللَّه قال: تزوج رسول اللَّه ﷺ امرأة من (غفار) (١) فقعد (منها مقعد) (٢) الرجل من المرأة فأبصر بكشحها برصًا فقام عنها فقال: " (سوي) (٣) عليك (ثيابك) (٤) وارجعي إلى بيتك" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غفاریہ عورت سے شادی کی، جب آپ ان سے ہم بستری فرمانے لگے تو اس کے جسم پر پھلبہری کے نشان دیکھے، آپ نے ان سے فرمایا کہ اپنے کپڑے سیدھے کرلو اور اپنے گھرواپس چلی جاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17089
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ جميل متروك، أخرجه البخاري في التاريخ ٧/ ٢٢٣، وقد اختلف عليه في اسم الصحابي، انظر: الكامل ١/ ٣٦٨، وأسد الغابة ٢/ ٤١٧؛ وشرح مشكل الآثار (٦٤٤)، والبدر المنير ٧/ ٤٨٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17089، ترقيم محمد عوامة 16559)
حدیث نمبر: 17090
١٧٠٩٠ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن زهير عن مغيرة عن إبراهيم (عن عبد اللَّه) (١) قال: لا ترد (الحرة) (٢) من (عيب) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ فرماتے ہیں کہ آزادعورت کو عیب کی وجہ سے واپس نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 17090
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17090، ترقيم محمد عوامة 16560)