کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگرکوئی شخص کسی باندی سے نکاح کرے پھر اسے خرید لے توکیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 16880
١٦٨٨٠ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم (و) (١) الشعبي قال: إذا كانت الأمة تحت الحر فاشتراها (قالا) (٢): (بطل) (٣) النكاح، وتكون جارية (له) (٤) يطأها إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں باندی تھی، پھر اس نے باندی کو خرید لیا تو نکاح ختم ہوجائے گا اور وہ اس کی باندی ہوگی اگر چاہے تو اس سے وطی کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16880
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16880، ترقيم محمد عوامة 16366)
حدیث نمبر: 16881
١٦٨٨١ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن في الرجل يحب الأمة ثم يشتريها، قال: أذهب الرق عقدتها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنی باندی کو خرید لیا تو رقیت نکاح کو ختم کردے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16881
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16881، ترقيم محمد عوامة 16367)
حدیث نمبر: 16882
١٦٨٨٢ - حدثنا وكيع عن (علي) (١) ابن (مبارك) (٢) عن يحيى بن أبي كثير (عن) (٣) مكحول في الرجل يتزوج الأمة ثم يشتريها قال: يطأها بالملك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے باندی سے شادی کی پھر اسے خرید لیا تو چاہے تو ملک کی وجہ سے اس سے وطی کرسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16882
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16882، ترقيم محمد عوامة 16368)
حدیث نمبر: 16883
١٦٨٨٣ - حدثنا معتمر عن ليث عن طاوس قال: يطأها بالملك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ ملک کی وجہ سے اس سے وطی کرسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16883
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16883، ترقيم محمد عوامة 16369)
حدیث نمبر: 16884
١٦٨٨٤ - حدثنا حماد بن خالد عن ابن أبي (ذئب) (١) قال: سألت عطاء عن الرجل (تكون) (٢) (تحته) (٣) الأمة (فيشتريها) (٤) قال: ⦗٢٠٥⦘ هي (أمته) (٥) يصنع بها ما شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی کے نکاح میں باندی ہو اور وہ اسے خرید لے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اس کی باندی ہے وہ اس کے ساتھ جو چاہے کرے۔ میں نے یہی سوال حضرت زہری سے کیا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16884
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16884، ترقيم محمد عوامة 16370)
حدیث نمبر: 16885
١٦٨٨٥ - قال: وسألت الزهري فقال: (مثل) (١) ذلك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16885
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16885، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 16886
١٦٨٨٦ - حدثنا خالد بن حبان عن (جعفر) (١) بن برقان قال: سألت الزهري عن رجل كانت تحته أمة فاشتراها، قال: هدم الشراء النكاح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس کے نکاح میں باندی تھی پھر اس نے اسے خرید لیا۔ انہوں نے فرمایا کہ خریدنا نکاح کو ختم کردے گا۔ حضرت جعفر کہتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں میمون بن مہران سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ اس کے لئے دونوں دروازوں سے جائز ہے، نکاح کے دروازے سے بھی اور ملکیت کے دروازے سے بھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16886
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16886، ترقيم محمد عوامة 16371)
حدیث نمبر: 16887
١٦٨٨٧ - قال: جعفر وسألت ميمون بن مهران عن ذلك، قال: (يحل) (١) له من (قبل) (٢) (بابين) (٣)، (من) (٤) قبل التزويج ومن قبل الشراء.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16887
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16887، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 16888
١٦٨٨٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن حبيب عن عمرو قال: سئل جابر بن زيد عن رجل كانت تحته (أمة) (١) فطلقها (تطليقة) (٢) ثم أعتق العبد فاشترى امرأته، (ما منزلها) (٣)؟ قال: إذا اشتراها فهي بمنزلة السرية، (فقد) (٤) أفتى بذلك عكرمة والحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر و سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو، وہ اس کو ایک طلاق دے دے۔ پھر غلام کو آزاد کردیا گیا اور اس نے اپنی بیوی کو خرید لیا تو اس کی بیوی کا کیا درجہ ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب اس کو خریدلیا تو وہ باندی کے مرتبے میں ہوگی۔ حضرت عکرمہ اور حضرت حسن بن ابی الحسن نے بھی یہی فتویٰ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16888
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16888، ترقيم محمد عوامة 16372)