کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے دو طلاقیں دیدے پھر خرید لے تو کیا حکم ہے؟
١٦٨٨٩ - حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عمن حدثه عن عثمان ابن عفان وزيد بن ثابت (أنهما) (١) قالا: (لا) (٢) تحل له حتى تنكح زوجًا غيره (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن عفان اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
١٦٨٩٠ - حدثنا عباد بن (العوام) (١) عن محمد بن إسحاق قال: قرأت كتاب عمر بن عبد العزيز: إنها لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے خط میں لکھا ہوا پڑھا کہ وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
١٦٨٩١ - حدثنا ابن فضيل عن الأعمش أعن إبراهيم عن علقمة قال: لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
١٦٨٩٢ - [(حدثنا أبو معاوية وابن فضيل عن الأعمش) (١) عن أبي الضحى عن مسروق قال: لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ کہ وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
١٦٨٩٣ - [حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن أبي عون عن أبي صالح الحنفي عن علي قال: لا يطؤها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اس سے وطی نہیں کرے گا۔
١٦٨٩٤ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
١٦٨٩٥ - حدثنا جرير عن الشيباني عن أبي الضحى (و) (١) الشعبي (قالا) (٢): لا تحل له إلا من حيث حرمت عليه، حتى (تتزوج) (٣) زوجًا غيره ويدخل بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الضحٰی اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے اور دوسرا خاوند اس سے وطی نہ کرلے۔
١٦٨٩٦ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن حماد عن إبراهيم قال: لا تحل له إلا من حيث حرمت عليه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
١٦٨٩٧ - حدثنا (عباد) (١) عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم قال: لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
١٦٨٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
١٦٨٩٩ - حدثنا ابن إدريس عن (مالك) (١) عن الزهري أن أبا عبد الرحمن سأل زيد بن ثابت أن مملوكة كانت تحت رجل فطلقها (فابتها) (٢) ثم اشتراها، قال: لا تحل له إلا من حيث حرمت عليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبدالرحمن نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی باندی کسی شخص کے نکاح میں تھی، اس نے اسے ایک طلاق دی، پھر وہ بائنہ ہوگئی اور آدمی نے اسے خرید لیا، اب اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
١٦٩٠٠ - [حدثنا أبو بكر قال: نا (ابن) (١) إدريس عن داود عن الشعبي قال: لا تحل له إلا من حيث حرمت عليه] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
١٦٩٠١ - حدثنا يزيد بن هارون عن (حبيب) (١) عن عمرو عن جابر بن زيد قال: لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔
١٦٩٠٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم ققال: سألت (عن ذلك) (١) عبيدة فأبى ذلك علي.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں حضرت عبیدہ سے سوال کیا تو انہوں نے اس سے منع فرمایا۔