١٦٧٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن (١) عن عقبة بن عامر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: (إذا أنكح الوليان (فهي) (٢) للأول) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب دو ولی نکاح کرائیں تو پہلے کا نکاح معتبر ہے۔
١٦٧٤٨ - [حدثنا علي بن مسهر عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي ﷺ قال: "إذا أنكح الوليان فهي للأول] (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب دو ولی نکاح کرائیں تو پہلے کا نکاح معتبر ہے۔
١٦٧٤٩ - (١) حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم أن امرأة زوجها ولي لها بالكوفة عبيد اللَّه، (وتزوجها) (٢) بالشام رجل آخر قبل عبيد اللَّه، (قال) (٣) فقدم الرجل، فخاصم عبيد اللَّه إلى علي فقضى بها للأول بعد ما (وارث) (٤) الآخر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر ایک عورت کا نکاح کوفہ میں موجود ایک ولی ” عبید اللہ “ نے کیا، جبکہ شام میں موجود ایک شخص نے عبید اللہ سے پہلے اس سے نکاح کرلیا تو کس کا نکاح معتبر ہوگا ؟ جب شام میں موجود آدمی کوفہ آیا تو وہ یہ مقدمہ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عدالت میں حاضر ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پہلے کے حق میں فیصلہ کردیاحالان کہ دوسرے سے اس کا بچہ پیدا ہوچکا تھا۔
١٦٧٥٠ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: (الأول) (١) (عبيد اللَّه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ گذشتہ روایت میں پہلے سے مراد ” عبید اللہ “ ہے۔
١٦٧٥١ - حدثنا (١) ابن ادريس عن هشام وأشعث عن هشام عن (ابن) (٢) ⦗١٨٢⦘ (سيرين) (٣) عن شريح (٤) قال: إذا أنكح الوليان فالنكاح للأول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب دو ولی نکاح کرائیں تو پہلے کا نکاح معتبر ہے۔
١٦٧٥٢ - حدثنا زيد بن حباب عن هارون بن إبراهيم عن ابن سيرين عن شريح في الوليين يزوجان قال: تخير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر دو ولیوں نے کسی عورت کی شادی کرادی تو عورت کو اختیار دیا جائے گا۔
١٦٧٥٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد قال: إذا أنكح (مجبران) (١) فهي للأول.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ جب دو ولی نکاح کرائیں تو پہلے کا نکاح معتبر ہے۔
١٦٧٥٤ - حدثنا (زيد) (١) بن حباب عن ثابت بن قيس الغفاري قال: كتبت إلى عمر بن عبد العزيز في جارية من جهينة: زوجها وليها رجلًا من قيس، وزوجها (أخوها) (٢) رجلًا من جهينة، فكتب عمر بن عبد العزيز: أن أدخل عليها شهودًا عدولًا (ثم) (٣) خيرها، فأيهما اختارت فهو زوجها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بن قیس غفاری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کے نام خط لکھا کہ جہینہ قبیلے کی ایک لڑکی کا نکاح اس کے ولی نے قبیلہ قیس کے ایک آدمی سے کرادیا، جبکہ اس کے بھائی نے اس کا نکاح جہینہ قبیلے کے ایک آدمی سے کرایا ہے، اب وہ کس کی بیوی ہوگی ؟ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ اس کے سامنے عادل گواہ لاؤ پھر اسے اختیار دو ، وہ جس کو اختیار کرے وہی اس کا شوہر ہے۔
١٦٧٥٥ - [حدثنا زيد بن حباب عن سفيان عن (جابر عن عامر) (١) في أخوين زوجا أختًا لهما قال: تخير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر دو بھائیوں نے مختلف جگہ اپنی ایک بہن کی شادی کرادی تو اس کو دونوں کے بارے میں اختیار ہوگا۔
١٦٧٥٦ - حدثنا زيد بن حباب عن حماد بن سلمة عن حماد في الوليين إذا زوجا قال: أيهما رضيت فهو زوجها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر دو ولیوں نے کسی عورت کی شادی کرادی تو جس سے وہ راضی ہو وہی اس کا خاوند ہے۔