کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر یتیم لڑکی کے نابالغ ہونے کی حالت میں اس کی شادی کرادی گئی تو اس کا کیا حکم ہے؟
١٦٧٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر عن سلم بن أبي الذيال قال: كتب عمر بن عبد العزيز في اليتيمين: إذا زوجا وهما صغيران: إنهما بالخيار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلم بن ابی ذیال فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدا لعزیز نے خط میں ایک حکم نامہ لکھا کہ اگر ایک یتیم لڑکے اور ایک یتیم لڑکی کے نابالغ ہونے کی حالت میں ان کی شادی کرادی گئی تو بالغ ہونے پر انہیں اختیا رہے۔
١٦٧٥٨ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: لها الخيار.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اسے اختیار ہے۔
١٦٧٥٩ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عطاء قال: (هي) (١) بالخيار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اسے اختیار ہے۔
١٦٧٦٠ - حدثنا ابن مهدي عن زمعة عن ابن طاوس عن أبيه قال في الصغيرين: (١) هما بالخيار إذا شبا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب یتیم بچوں کا نابالغ ہونے کی حالت میں نکاح کرایا گیا تو بالغ ہونے پر انہیں اختیار ہے۔
١٦٧٦١ - حدثنا عباد بن عوام عن سعيد عن قتادة في ولي اليتيمة إذا زوجها وهي صغيرة، قال: النكاح جائز، ولها الخيار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ جب یتیم لڑکی کے ولی نے نابالغ ہونے کی حالت میں اس کا نکاح کرادیا تو نکاح جائز ہے اور اسے اختیار ہوگا۔
١٦٧٦٢ - حدثنا عباد عن أبي (حنيفة) (١) عن حماد قال: النكاح جائز ولا خيار لها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اس کا نکاح جائز ہے اور اسے اختیار بھی نہیں۔