کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: خانہ کعبہ کی عظمت کا بیان
❮
❯
١٦٥٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن نصر بن عدي قال: سمعت مجاهدًا يقول: إنما سمي البيت العتيق لأنه أعتق من الجبابرة، فليس جبار يدعي أنه له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کعبہ کا نام بیت عتیق اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اس کو جابروں سے آزاد کیا گیا ہے، پس کوئی جابر یہ نہیں کہہ سکتا کہ خانہ کعبہ میرا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16570
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16570، ترقيم محمد عوامة 16077)
١٦٥٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع وغندر (عن) (١) شعبة عن الحكم عن عكرمة وعطاء وطاوس: ﴿فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ﴾ [إبراهيم: ٣٧]، قالوا: تهوي إليه قلوبهم يأتونه -يعني البيت-.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ اور حضرت عطاء اور حضرت طاؤس اللہ تعالیٰ کے ارشاد { فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْ اِلَیْھِمْ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کے دل اس کی طرف پھیر دیئے گئے ہوں وہ اس کے پاس آتے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16571
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16571، ترقيم محمد عوامة 16078)
١٦٥٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي الهيثم عن سعيد ابن جبير: ﴿جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ﴾ [المائدة: ٩٧]، قال: شدة لدينهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اللہ تعالیٰ کے ارشاد { جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کے دین و مذہب کی شدت کی وجہ سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16572
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16572، ترقيم محمد عوامة 16079)
١٦٥٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن (ابن أبي) (١) نجيح عن مجاهد قال: إنما سميت الكعبة لأنها (مربعة) (٢)، وإنما سميت البدن من أجل السمانة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کعبہ کا نام کعبہ اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ مربع ہے، بدنہ کو بدنہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ موٹے ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16573
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16573، ترقيم محمد عوامة 16080)
١٦٥٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (حدثنا سفيان) (١) [عن غالب عن سعيد بن جبير: ﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ﴾ [البقرة: ١٢٥]، قال: يحجون ثم يعودون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ لوگ حج کے لیے آتے ہیں پھر وہ دوبارہ اس کا اعادہ کرتے ہیں (باربار حج کرتے ہیں) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16574
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16574، ترقيم محمد عوامة 16081)
١٦٥٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع] (١) عن (مالك) (٢) بن (مغول) (٣) عن عطاء قال: يحجون ولا يقضون منه وطرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ لوگ حج کے لیے آتے ہیں لیکن وہاں اپنا کوئی مقصد اور مطلب پورا نہیں کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16575
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16575، ترقيم محمد عوامة 16082)
١٦٥٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: لولا أنه قال: ﴿فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ﴾ لازدحمت عليه فارس و (الروم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر یہ نہ کہا ہوتا کہ { فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ } تو فارس وروم والوں کا اس پر اژدہام ہوجاتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16576
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16576، ترقيم محمد عوامة 16083)