کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: حج کو فسخ کرنا، کیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے؟
حدیث نمبر: 16518
١٦٥١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه عن جابر أن النبي ﷺ قال: "إني لو استقبلت من أمري ما استدبرت، لم أسق الهدي وجعلتها عمرة، فمن كان منكم ليس معه هدي فليحل"، [(ويجعله (١) (١) عمرة، فقام سراقة فقال: يا رسول اللَّه ألعامنا هذا (أو للأبد) (٢)، فشبك رسول اللَّه ﷺ ⦗١٢٢⦘ أصابعه (واحدة) (٣) في الأخرى، وقال: دخلت العمرة في الحج (لأبد الأبد) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب میں کسی کام کے لیے چلتا ہوں تو پھر اس سے منہ نہیں پھیرتا، میں نے ھدی کو نہیں ہانکا تھا میں نے اس کو عمرہ بنادیا ہے، پس تم میں سے جن کے پاس ھدی نہ ہو وہ حلال ہوجائیں اور اس کو عمرہ بنالیں، حضرت سراقہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ایک انگلیاں ایک دوسری میں داخل فرمائی اور فرمایا، عمرہ کو حج میں داخل کردیا گیا ہے۔ نہیں، بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16518
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٢١٨)، وأحمد (١٤٤٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16518، ترقيم محمد عوامة 16027)
حدیث نمبر: 16519
١٦٥١٩ - حدثنا أبو بكر قال: أخبرنا ابن فضيل عن (يزيد) (١) عن مجاهد عن ابن عباس قال: جاء (أناس) (٢) مع النبي ﷺ حجاجًا، فأمرهم فجعلوها عمرة، ثم قال: "إني لو استقبلت من أمري ما استدبرت ما فعلت ذلك، ولكن دخلت العمرة في الحج إلى يوم القيامة"، ثم شبك بين أصابعه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا کہ اس کو عمرہ بنادو، پھر فرمایا : میں جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہوں تو پھر اس سے پھرتا نہیں ہوں، لیکن عمرہ کو حج میں داخل کردیا گیا ہے قیامت تک کے لیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسری میں داخل فرمائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16519
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد، أخرجه أحمد (٢٢٨٧)، والترمذي (٩٣٢)، وأبو داود (١٧٩٢)، وعبد بن حميد (٦٤٤)، وأبو يعلى (٢٤٧٤)، والطبراني (١١١١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16519، ترقيم محمد عوامة 16028)
حدیث نمبر: 16520
١٦٥٢٠ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن بكر عن ابن عمر قال: إنما أهل رسول اللَّه ﷺ بالحج وأهللنا معه فلما قدمنا، قال رسول اللَّه ﷺ: "من لم يكن معه هدي فليحل] (١) "، وكان على رسول اللَّه ﷺ هدي فلم يحل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے لیے احرام باندھا اور ہم لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احرام باندھا، جب ہم لوگ آگے بڑھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جن کے پاس ھدی کا جانور نہ ہو وہ حلال ہوجائے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ھدی کا جانور تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال نہ ہوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16520
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٥٤)، وبنحوه مسلم (١٢٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16520، ترقيم محمد عوامة 16029)
حدیث نمبر: 16521
١٦٥٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن أفلح عن القاسم عن عائشة قالت: خرجنا مع رسول اللَّه ﷺ مهلين بالحج في أشهر الحج وأيام الحج، حتى قدمنا سرف فقال رسول اللَّه ﷺ لأصحابه: "من لم يكن منكم ساق هديًا ⦗١٢٣⦘ فأحب أن يهل من (حجه) (١) بعمرة فليفعل" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے مہینے میں، حج کے دنوں میں حج کا احرام باندھ کر نکلے، جب ہم لوگ مقام سرف میں پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : جن کے پاس ھدی کا جانور نہیں ہے تو ان کے لیے یہ زیادہ پسندیدہ ہے کہ وہ حج سے عمرہ کے لیے حلال ہوجائیں، پس ان کو چاہئے کہ وہ ایسا کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16521
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٥٦٠)، ومسلم (١٢١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16521، ترقيم محمد عوامة 16030)
حدیث نمبر: 16522
١٦٥٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن مجاهد عن ابن عباس عن النبي ﷺ أنه قال: " (هذه) (١) عمرة استمتعنا بها، فمن لم يكن معه هدي فليحل الحل كلله، فقد دخلت العمرة في الحج إلى يوم القيامة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ عمرہ ہے ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے، پس جن کے پاس ھدی کا جانور نہ ہو وہ حلال ہوجائیں (عمرہ کی طرف) بیشک قیامت تک عمرہ کو حج میں داخل کردیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16522
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٢٤١)، وأحمد (٢١١٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16522، ترقيم محمد عوامة 16031)
حدیث نمبر: 16523
١٦٥٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه عن أبي ذر قال: كانت المتعة في الحج لأصحاب النبي ﷺ خاصة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ حج تمتع کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے لیے خاص تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16523
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٢٢٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16523، ترقيم محمد عوامة 16032)
حدیث نمبر: 16524
١٦٥٢٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن المرقع عن أبي ذر قال: ليس لأحد أن يهل بالحج ثم يجعلها عمرة إلا للركب الذين كانوا مع النبي ﷺ] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ کسی شخص کے لیے یہ نہیں ہے کہ وہ حج کے لیے احرام باندھنے کے بعد اس کو عمرہ میں تبدیل کر دے، سوائے ان لوگوں کے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16524
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16524، ترقيم محمد عوامة 16033)
حدیث نمبر: 16525
١٦٥٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن مجاهد قال: قال ابن الزبير: افردوا الحج (ودعوا) (١) قول (أعماكم) (٢) هذا، فبلغ ذلك ابن عباس فقال: إن الذي أعمى اللَّه قلبه وعينيه لأنت، ألا تسأل أمك فسألها، فقالت: قدمنا ⦗١٢٤⦘ مع النبي ﷺ حجاجًا فأمرنا فأحللنا الحلال كله، حتى (تسطّعت) (٣) المجامر بين (الرجال) (٤) والنساء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر نے ارشاد فرمایا : صرف حج کیا کرو، اور اپنے عمال کے قول کو چھوڑدو، یہ بات جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تک پہنچی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے وہ شخص جس کے دل اور آنکھوں کو اللہ تعالیٰ نے اندھا کردیا ہے، کیا تو نے اپنی والدہ سے دریافت نہیں کیا ؟ پس انہوں نے والدہ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، پس ہم سب لوگ حلال ہوگئے ، یہاں تک کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان آگ کا دھواں بلند ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 16525
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد، أخرجه أحمد (٢٦٩١٧)، والطبراني ٢٤/ (٣٤٣)، وبنحوه مسلم (١٢٣٨)، وأصله عند البخاري (١٧٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16525، ترقيم محمد عوامة 16034)