١٦٣٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمران بن حدِير عن عكرمة في (محرم) (١) أصاب جرادة قال: يتصدق بكسرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ محرم اگر ٹڈی کو مار دے تو روٹی کا ٹکڑا صدقہ کرے۔
١٦٣٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن ابن جريج عن عطاء في الجرادة قبضة أو لقمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ٹڈی میں ایک لقمہ صدقہ کرے گا۔
١٦٣٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد (عن) (١) إبراهيم عن كعب أنه مرت به جرادة فضربها بسوطه فأخذها فشواها، فقالوا له، فقال: هذا خطأ، وأنا أحكم على نفسي في هذا درهمًا، فأتى عمر فقال: وإنكم أهل حمص أكثر شيء دراهم، تمرة خير من جرادة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب کے پاس سے ٹڈی گزری تو انہوں نے اس کو کوڑے سے مارا، پھر اس کو پکڑ کر پکا لیا، لوگوں نے ان سے کہا (یہ کیا ہے) ؟ آپ نے کہا یہ غلطی سے ہوا ہے، اور اس بارے میں میں نے اپنے اوپر ایک درھم لازم کرلیا ہے، پھر حضرت عمر کے پاس آئے، حضرت عمر نے فرمایا کہ تم اھل حمص کے پاس دراھم زیادہ ہیں، ایک کھجور ٹڈی سے بہتر ہے۔
١٦٣٤٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عمر بمثله أو نحوه] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر سے اسی طرح منقول ہے۔
١٦٣٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن شعيب عن علي بن عبد اللَّه البارقي قال: كان (عبد اللَّه) (١) بن عمر يقول: في الجرادة: قبضة من طعام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ٹڈی میں ایک مٹھی بھر کر طعام صدقہ کرے گا۔
١٦٣٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (إسرائيل) (١) عن جابر عن محمد ابن علي (و) (٢) عطاء (ومحمد) (٣) ومجاهد وطاوس أنهم قالوا في ⦗٨٩⦘ (الجنادب) (٤) و (العظا) (٥) والجراد والذر، قالوا: إن قتله عمدًا أطعم شيئًا، وإن كان خطأ فليس عليه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ ‘ حضرت عطاء ‘ حضرت مجا ہد اور حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ ٹڈی، چیونٹی اور چھپکلی کو اگر جان بوجھ کر مار دے تو کھانا صدقہ کرے، اور اگر غلطی سے مار دے تو اس پر کچھ بھی نہیں ہے، اور حضرت عامر اور عبد الرحمن بن الاسود فرماتے ہیں کہ جان بوجھ کر مارے یا غلطی سے مارے اس پر کھانا صدقہ کرنا لازم ہے۔
١٦٣٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة أن محرمًا أصاب جرادة فحكم عليه عبد اللَّه بن عمر ورجل آخر، فحكم عليه أحدهما تمرة والآخر (كسرة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ سے مروی ہے کہ حالت احرام میں ایک شخص نے ٹڈی کو مار دیا تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور ایک دوسرے صاحب نے فیصلہ فرمایا : ان میں سے ایک نے کھجور صدقہ کرنے کا اور دوسرے نے روٹی کا ٹکڑا صدقہ کرنے کا حکم فرمایا۔
١٦٣٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن جعفر عن القاسم قال: سئل ابن عباس عن المحرم يصيب الجرادة فقال: تمرة خير من جرادة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ محرم اگر ٹڈی کا شکار کرلے ؟ آپ نے فرمایا کہ ایک کھجور صدقہ کرنا ٹڈی سے بہتر ہے۔
١٦٣٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد عن (حسين) (١) بن عقيل عن الضحاك (قال) (٢): في الجرادة ونحوها وما هو دونها: قبضة من طعام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک ٹڈی اور دوسرے چھوٹی چیزوں کے متعلق فرماتے ہیں کہ ایک مٹھی صدقہ کرے گا۔
١٦٣٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن خالد عن ابن أبي ذئب عن الزهري عن سعيد بن المسيب قال: قبضة من طعام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ مٹھی بھر کھانا صدقہ کرے۔