١٦٠٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه عن ⦗٢٢⦘ جابر أن النبي ﷺ لم يزل واقفًا بين المزدلفة حتى (أسفر) (١) جدًا، فدفع قبل أن تطلع الشمس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں ہی ٹھہرے رہے یہاں تک کافی روشنی ہوگئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی مزدلفہ سے نکل گئے۔
١٦٠٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن محمد بن المنكدر سمع سعيد ابن عبد الرحمن بن يربوع (يخبر) (١) عن جبير بن الحويرث سمع أبا بكر وهو واقف على (قزح) (٢) وهو يقول: أيها الناس أصبحوا، أيها الناس أصبحوا، ثم دفع فكأني انظر (إلى) (٣) فخذه قد انكشفت مما (يخرش) (٤) بعيره بمحجنه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن الحویرث سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابوبکر صدیق کو قزح پر کھڑے ہو کر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : اے لوگو ! صبح کرو، اے لوگو ! صبح کرو، پھر یہاں سے نکلو، گویا کہ میں آپ کی ران کی طرف دیکھ رہا جو ڈنڈے سے اونٹ کو حرکت دینے اور بر انگیختہ کرنے سے ظاہر ہو رہی تھی۔
١٦٠٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن أبي الشعثاء قال: وقت الدفعة من المزدلفة (كقدر) (١) صلاة القوم (من) (٢) المصبحين بصلاة الصبح حين تبصر الإبل (مواضع) (٣) أخفافها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الشعثائ فرماتے ہیں کہ مزدلفہ سے نکلنے کا وقت، جیسا کہ کسی قوم کی صبح کی نماز، یہاں تک کہ اونٹ کی پوشیدہ چیزیں اس کو نظر آنے لگیں۔
١٦٠٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن ابن طاوس عن أبيه قال: كان أهل الجاهلية يدفعون من عرفات قبل غروب الشمس (ومن المزدلفة بعد طلوعها) (١) فأخر اللَّه هذه وقدم هذه، أخر التي من عرفة إلى غروب الشمس، و (قدم التي) (٢) من مزدلفة قبل طلوع الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے مروی ہے کہ جاہلیت والے عرفات سے سورج غروب ہونے سے پہلے ہی نکل جاتے اور مزدلفہ سے سورج نکلنے کے بعد، اللہ تعالیٰ نے اس کو (عرفات) مؤخر فرما دیا اور اس کو (مزدلفہ) مقدم کردیا، عرفات کو غروب شمس تک مؤخر فرما دیا اور مزدلفہ سے جانے کو سورج نکلنے تک۔
١٦٠٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن العمري عن نافع قال: وقف ابن الزبير بجمع (فأسفر) (١) فقال ابن عمر: طلوع الشمس (ينتظر) (٢)، أفعل الجاهلية؟ فدفع ابن عمر ودفع الناس (بدفعته) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن زبیر مزدلفہ میں ٹھہرے، پھر وہ چل پڑے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا سورج کے نکلنے کا انتظار کرتے ہو ؟ یا جاہلیت والا کام کرنا ہے ؟ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نکلے تو لوگ ان کے جانے کے بعد گئے۔
١٦٠٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد أن عبد اللَّه أفاض من جمع مقدار صلاة (المسفرين) (١) بصلاة (الغداة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ مزدلفہ سے مسافروں کی صبح کی نماز پڑھنے کی مقدار میں نکلے۔
١٦٠٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير ويزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد عن القاسم قال: سمعت ابن الزبير يقول: إن من سنة الحج أن يصلي، ثم يقف بالمزدلفة بعد أن يصلي الصبح إذا برق الفجر، فإذا أسفر دفع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر فرماتے ہیں کہ سنت حج میں سے یہ ہے کہ نماز پڑھی جائے، پھر فجر کی نماز کے بعد دن کے چمک دار ہونے تک مزدلفہ میں ٹھہرا جائے جب خوب روشنی ہوجائے تو پھر نکلے۔
١٦٠٢٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر قال: قبل طلوع الشمس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے جایا جائے گا۔
١٦٠٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عمرو عن (ابن) (١) الزبير قال: الدفعة من جمع قبل طلوع الشمس] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر سے بھی یہی مروی ہے۔
١٦٠٢٩ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا يحيى (بن سعيد) (١) عن ابن جريج عن (ابن) (٢) طاوس عن أبيه قال: قبل طلوع الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے بھی یہی مروی ہے۔
١٦٠٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن نافع عن ابن عمر قال: كقدر صلاة الصبح لا معجلة ولا مؤخرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صبح کی نماز ادا کرنے کی مقدار میں نکلے، نہ بہت جلدی نہ بہت تاخیر سے۔