١٥٧١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (بكير) (١) ابن عتيق قال: سمعت سعيد بن جبير يقول: الطواف للغرباء أحب إلي من الصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک مسافروں کے لیے نماز سے زیادہ طواف کرنا افضل ہے۔
١٥٧٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن حجاج (عن أبي بكر بن أبي موسى قال: سئل) (١) ابن عباس عن (الطواف أفضل أو الصلاة) (٢) فقال: أما أهل ⦗٤٩٣⦘ مكة فالصلاة، وأما أهل الأمصار فالطواف (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ طواف کرنا افضل ہے یا نماز پڑھنا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ مکہ والوں کے لیے نماز افضل اور مسافروں کے لیے طواف افضل ہے۔
١٥٧٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن حجاج قال: سألت عطاء فقال: أما أنتم فالطواف وأما أهل مكة فالصلاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ تمہارے لیے طواف افضل ہے، اور مکہ والوں کے لیے نماز۔
١٥٧٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمر بن ذر قال: سمعت مجاهدًا يقول: الصلاة لأهل (مكة) (١) أفضل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مکہ والوں کے لیے نماز پڑھنا افضل ہے۔
١٥٧٢٣ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن عمر بن ذر قال: سمعت مجاهدًا يقول: الصلاة لأهل مكة أفضل) (١) والطواف لأهل الآفاق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مکہ والوں کے لیے نماز پڑھنا افضل ہے اور دوسرے شہروں سے آنے والوں کے لیے طواف کرنا افضل ہے۔