کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو شخص حج کرنے کا ارادہ کرے اس کے لیے بال کاٹنا ناپسندیدہ ہے
حدیث نمبر: 15418
١٥٤١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي ذئب عن خاله الحارث عن أبي سلمة عن أم سلمة قالت: إذا دخل العشر فلا يأخذ من شعره ولا من أظفاره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب ذی الحجہ کے دس دن شروع ہوجائیں تو نہ اپنے بال کاٹو اور نہ ہی ناخن۔
حدیث نمبر: 15419
١٥٤١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن حرملة عن سعيد بن (١) المسيب أنه قال: من كان يريد أن يضحي، فلا يأخذ من شعره ولا من أظفاره شيئًا إذا أهل ذو الحجة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو جب ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہوجائے تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
حدیث نمبر: 15420
١٥٤٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن (الأحلافي) (١) عن سعيد بن المسيب أنه كره أن يأخذ من شعره إذا أراد الحج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب ناپسند فرماتے تھے کہ جو شخص حج کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ بال کاٹے، راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ کیا عورتوں کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا ؟ ! !۔
حدیث نمبر: 15421
١٥٤٢١ - قال فسألت عكرمة (قال) (١) أفلا تدع النساء.
حدیث نمبر: 15422
١٥٤٢٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن (جريج) (١) عن عطاء أنه كره أن يأخذ من شعره إذا تقارب الحج] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء جب ایام حج قریب آجاتے تو بال کاٹنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 15423
١٥٤٢٣ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن إسحاق بن يحيى عن مجاهد عن ابن عمر قال: من أراد الحج فلا يأخذ من شعره شيئًا] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص حج کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے بال نہ کاٹے۔
حدیث نمبر: 15424
١٥٤٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن محمد بن شريك عن عطاء أنه سئل عن الرجل يأخذ من شعره وهو يريد الحج؟ قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص حج کا ارادہ رکھتا ہے تو کیا وہ اپنے بال کاٹ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 15425
١٥٤٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن عبيد اللَّه بن عمر عن أبي بكر ابن سالم عن سالم أنه كان يجز رأسه في النصف من شعبان، ثم يخرج حاجًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم نصف شعبان کو اپنے بال کاٹ لیا کرتے تھے پھر وہ حج کے لیے نکلا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 15426
١٥٤٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه كان (يحب) (١) (أن يكف في العشر) (٢) عن شعره وأظفاره، وكان لا يرى بالتنّور بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ آدمی ذی الحجہ کے دس دن بال اور ناخن نہ کاٹے، اور وہ بال صفا پورڈر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 15427
١٥٤٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر قال: سألت (عكرمة و) (١) سالمًا وعطاء وطاوسًا والقاسم فقالوا: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ، حضرت سالم، حضرت عطاء ، حضرت طاؤس اور حضرت قاسم سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ سب حضرات نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 15428
١٥٤٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن محمد بن أبي إسماعيل قال: حدثتني أمي عن جدتها أنها سمعت أم سلمة أم المؤمنين تقول: من كان يضحى عنه، فهلَّ هلال ذي الحجة فلا يأخذ من شعره شيئًا حتى يضحي (١).
مولانا محمد اویس سرور
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ارشاد فرماتی ہیں کہ جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو جب ذی الحجہ کا چاند نظر آجائے تو اس کو چاہئے کہ قربانی تک بال نہ کاٹے، راوی فرماتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر ابراہیم سے کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے اس کے متعلق نہیں سنا۔
حدیث نمبر: 15429
١٥٤٢٩ - (فذكرت) (١) ذلك لإبراهيم فقال: ما سمعت بهذا.
حدیث نمبر: 15430
١٥٤٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون توفير الشعر إذا أرادوا أن يحرموا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ اسلاف اس بات کو پسند کرتے تھے کہ جب آدمی کا احرام باندھنے کا ارادہ ہو تو اس کو چاہئے کہ اپنے بالوں کو نہ کٹوائے۔
حدیث نمبر: 15431
١٥٤٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي ذئب عن عثمان ابن عبيد اللَّه بن أبي رافع عن عبد الرحمن بن هرمز الأعرج أن عمر بن الخطاب أخذ من رأس رجل من قريش يقال له: محمد بن (١) ربيعة، كان ذا شعر بالشجرة، قبل أن يحرم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب نے محمد بن ربیعہ جو قریش سے تعلق رکھتے تھے ان کے بال ذوالحلیفہ میں احرام باندھنے سے قبل کٹوائے۔
حدیث نمبر: 15432
١٥٤٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي ذئب عن يزيد ابن عبد اللَّه بن (قسيط) (١) عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام وعطاء ⦗٤٣٤⦘ ابن يسار وأبي بكر بن سليمان بن أبي (حثمة) (٢) قالوا: لا بأس أن يأخذ الرجل من شعره وأظفاره في (العشر) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن حارث، حضرت عطاء بن یسار اور ابوبکر بن سلیمان فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ آدمی ذی الحجہ کے دس دنوں میں اپنے بال اور ناخن کاٹے۔
حدیث نمبر: 15433
١٥٤٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن [عطاء قال: لا بأس بالتنور في العشر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ بال صفا پوڈر کو ذی الحجہ کے دس دنوں میں استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں، (بال کاٹ سکتے ہیں) ۔
حدیث نمبر: 15434
١٥٤٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة] (١) عن عمرو أن جابر بن زيد (اطلى) (٢) في العشر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید ذی الحجہ کے دس دنوں میں بالوں پر (تیل وغیرہ) خوب ملا کرتے تھے، (لمبا کرنے کے لیے) ۔
حدیث نمبر: 15435
١٥٤٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن محمد بن شريك عن عطاء قال: لا بأس بالتنور في (العشر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ذی الحجہ کے دس دنوں میں بال صفا پوڈر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 15436
١٥٤٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن يمان عن معمر عن قتادة عن ابن المسيب أنه كان يستحب توفير الشعر عند الإحرام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب احرام باندھتے وقت بالوں کے لمبا ہونے کو پسند فرماتے تھے۔