١٥٢٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن عطاء عن ابن عباس أنه كان لا يرى بأسًا بالمطلقات ثلاثًا والمتوفى عنهن أزواجهن (أن يحججن) (١) في عدتهن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ تین طلاق یافتہ عورت اور جس عورت کا شوھر فوت ہوگیا ہو وہ اگر اپنی عدت میں حج کرلیں۔
١٥٢٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أسامة عن القاسم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ام کلثوم کو عدت میں حج کروایا۔
١٥٢٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن يونس عن الحسن قال: لا بأس أن تحج (في عدتها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ عورت عدت میں حج کرے۔
١٥٢٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن حبيب المعلم قال: سألت (عطاء) (١) عن المطلقة ثلاثًا والمتوفى عنها تحجان في (عدتهما) (٢) فقال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ تین طلاق یافتہ عورت اور وہ عورت جس کا شوہر فوت ہوجائے اپنی عدت میں حج کرسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں، حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ حسن بھی یہی فرماتے تھے۔