١٤٧٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع عن) (١) يحيى بن سعيد عن ابن جريج (عن عطاء) (٢) قال: لا يرفع الصوت بالقراءة (عشية عرفة) (٣) في الظهر والعصر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ارشاد فرماتے ہیں کہ وقوف عرفہ کی سہ پہر ظہر وعصر کی نماز میں بلند آواز سے قراءت نہیں کی جائے گی۔
١٤٧٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن مسعدة عن ابن جريج قال: حضرت إبراهيم بن هشام يوم عرفة وافق يوم جمعة فجهر بالقراءة فقال سالم: بيده أي اسكت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم بن ہشام وقوف عرفہ میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے قراءت (شروع) کی، حضرت سالم نے اپنے ہاتھ سے (اشارہ کر کے) فرمایا : اوئے ! خاموش ہوجا۔
١٤٧٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ليث عن مجاهد (أو) (١) طاوس (قال) (٢): لا يجهر الإمام عشية عرفة ولو وافق ذلك يوم جمعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد یا حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ امام وقوف عرفہ کی سہ پہر اگرچہ وہ جمعہ کے دن ہی کیوں نہ ہو بلند آواز سے قراءت نہیں کرے گا۔
١٤٧٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن ابن أبي ذئب عن الزهري مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری سے بھی اسی طرح مروی ہے اور فرماتے ہیں کہ یہی حضرت سفیان کی رائے ہے۔
١٤٧٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن ليث (بن) (١) سعد عن الزهري أن الإمام لا يجهر في الظهر والعصر بالقراءة يوم عرفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ امام وقوف عرفہ میں ظہر وعصر کی نمازوں میں قراءت جہراً نہیں کرے گا۔