کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: آب زم زم کی فضیلت
حدیث نمبر: 14702
١٤٧٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو أسامة) (١) عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال عن عبد اللَّه بن الصامت عن أبي ذر قال: (قال) (٢) رسول اللَّه ﷺ: ⦗٢٦٠⦘ "إنها مباركة -يعني زمزم- طعام من طَعِم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کھانے والے کے لیے خوراک ہے (یعنی اس سے بھوک بھی مٹ جاتی ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14702
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٢٤٧٣) وأحمد (٢١٥٢٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14702، ترقيم محمد عوامة 14335)
حدیث نمبر: 14703
١٤٧٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن ابن عباس: (أنه قال في ماء زمزم) (١): طعام من طعم وشفاء من سقم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما آب زم زم کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ کھانے والے کے لیے خوراک ہے (یعنی اس سے بھوک بھی مٹ جاتی ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14703
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ابن أبي ليلى.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14703، ترقيم محمد عوامة 14336)
حدیث نمبر: 14704
١٤٧٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (العلاء) (١) بن أبي العباس عن أبي الطفيل عن ابن عباس قال: كنا نسمي زمزم شباعة، ونزعم أنها نعم العون على العيال (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کا نام شباعہ یعنی خوب سیر کرنے والا رکھا ہے اور ہم گمان کرتے ہیں کہ یہ بہترین مدد گار ہے مفلس اور اھل و عیال والے کے لیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14704
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ العلاء ثقة وثبت سماعه من أبي الطفيل؛ انظر: التاريخ الكبير ٦/ ٥١٢، والمختارة للضياء (٩٣٩)، ومسند أبي يعلى (٧٥٣)، والسنة لابن أبي عاصم (٩٢٠)، والفتن لنعيم بن حماد (٥٢٠)؛ وأحاديث المصيصي ١/ ١٠٢ (٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14704، ترقيم محمد عوامة 14337)
حدیث نمبر: 14705
١٤٧٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن أبي زياد قال: حدثني رجل من أهل الشام عن كعب قال: سمعته يقول: إن في كتاب اللَّه المنزل أن ماء زمزم (طعام من طعم وشفاء من سقم) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب ارشاد فرماتے ہیں کہ بیشک قرآن پاک میں ہے کہ آب زم زم کھانوں میں سے ایک کھانا ہے اور مریض کے لیے باعث شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14705
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14705، ترقيم محمد عوامة 14338)
حدیث نمبر: 14706
١٤٧٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان قال: أخبرنا أبو إسحاق عن قيس بن (كركم) (١) قال: سألت ابن عباس فقلت: أخبرني عن ماء ⦗٢٦١⦘ زمزم فقال: (أخبرك) (٢) بعلم: لا تنزح ولا تنزف ولا (تزم) (٣) طعام من طعم وشفاء من سقم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن کر کم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ مجھے آب زم زم کے متعلق خبر دیں ؟ آپ نے فرمایا کہ میں تجھے علم کے ساتھ خبر دوں گا، اس کے کنواں کو بالکل خالی اور ختم نہ کرو اور اس کی مذمت بھی نہ کرو بیشک یہ کھانوں میں سے ایک کھانا ہے اور مریض کے لیے باعث شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14706
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14706، ترقيم محمد عوامة 14339)
حدیث نمبر: 14707
١٤٧٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سعيد بن زكريا وزيد بن الحباب عن عبد اللَّه ابن المؤمل عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ماء زمزم لما شُرِبَ لَهُ" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آب زم زم ہر اس مقصد کے لیے ہے کہ جس مقصد کے لیے اس کو پیا جائے (یعنی جس مقصد سے پئیں گے وہ حاصل ہوگا) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14707
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال عبد اللَّه بن المؤمل، أخرجه أحمد (١٤٨٤٩)، وابن ماجه (٣٠٦٢)، والعقيلي ٢/ ٣٠٣، والطبراني في الأوسط (٨٥٣)، وابن عدي ٤/ ١٤٥٥، والأرزقي ٢/ ٥٢، والبيهقي ٥/ ١٤٨، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ٢/ ٣٧، والخطيب في تاريخ بغداد ٣/ ١٧٩، وابن عساكر ٣٢/ ٤٣٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14707، ترقيم محمد عوامة 14340)