کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: عرفہ نام کیوں رکھا گیا ہے؟
❮
❯
١٤٧٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن التيمي عن أبي (مجلز) (١) أن (جبرئيل) (٢) أتى بإبراهيم عرفات، فقال: عرفت؟ قال: نعم، قال: (فمن ثم) (٣) سميت (عرفات) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت جبرئیل ابراہیم کے پاس عرفات میں تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ کو معلوم ہوگیا ؟ انھوں نے فرمایا ہاں، اسی وجہ سے اس کا نام عرفات پڑگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14700
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14700، ترقيم محمد عوامة 14333)
١٤٧٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (يعلى) (١) بن عبيد عن عبد الملك عن عطاء قال: إنما سميت عرفات، (لأن) (٢) جبريل كان يرى إبراهيم المناسك فيقول: عرفت؟ ثم يريه فيقول: عرفت؟ فسميت عرفات (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اس جگہ کا نام عرفات اس لیے پڑا ہے کہ حضرت جبرئیل ابراہیم کو مناسک حج سکھاتے اور پھر پوچھتے کہ آپ کو پتہ چل گیا ؟ پھر سکھاتے اور فرماتے معلوم ہوگیا ؟ اسی وجہ سے اس کا نام عرفات پڑگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14701
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14701، ترقيم محمد عوامة 14334)