١٤٣٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام بن حرب عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم أن عمر بن الخطاب أمر الصبي بن معبد حيث -أو حين- قرن أن يذبح كبشًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب نے حضرت صبی بن معبد کو حکم دیا کہ جب بھی قران کرو بکری ذبح کرو۔
١٤٣٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن عبد الملك عن سعيد ابن جبير قال: الشاة تجزي عن القارن من (حجه) (١) وأضحاه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ بکری حج قران کرنے والے کی طرف سے ھدی اور قربانی کے لیے کافی ہوجائے گی۔
١٤٣٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن علي بن علي عن عكرمة قال: (يجزئ) (١) هديه من أضحيته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اس کی ھدی قربانی سے کافی ہوجائے گی۔
١٤٣٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن ليث (قال: سئل طاوس) (١) عن امرأة تمتعت فلم تذبح وضحت، قال: يجزئها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے ایک عورت نے دریافت کیا کہ اس نے تمتع کیا ہے اس نے ذبح نہیں کیا لیکن قربانی کرلی ہے ؟ آپ نے فرمایا اس کی طرف سے کافی ہوجائے گی۔
١٤٣٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن ابن (أبي) (١) عروبة عن قتادة عن عمر بن عبد العزيز أنه كان يأمر بالمتعة ويحث عليها ويقول: تجزئ عنه شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز نے تمتع کا حکم فرمایا کرتے اور اس کی ترغیب دیتے اور فرماتے اس کی طرف سے بکری کافی ہوجائے گی۔