کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: جن حضرات نے بغیر احرام کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے
❮
❯
١٤٠٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر أنه أقام بمكة ثم خرج يريد (المدينة) (٢)، حتى إذا كان بقديد بلغه أن جيشا من جيوش (الفتنة) (٣) دخلوا (المدينة) (٤) فكره أن يدخل عليهم، فرجع إلى مكة، فدخلها بغير إحرام (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مکہ مکرمہ میں مقیم تھے پھر آپ مدینہ منورہ جانے کی نیت سے مکہ سے نکلے، جب مقام قدید پر پہنچے تو آپ کو خبر ملی کہ مدینہ فتنہ پھیلانے والا لشکر داخل ہوا ہے، تو آپ نے مدینہ منورہ ان کے پاس جانے کو ناپسند کیا اور آپ بغیر احرام مکہ میں داخل ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14029
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14029، ترقيم محمد عوامة 13700)
١٤٠٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر قال: خرج أبي وعمرو بن دينار إلى أرضهما خارجة (من المحرم) (١)، ثم دخلا مكة بغير إحرام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر فرماتے ہیں کہ میرے والد اور حضرت عمرو بن دینار حرم سے باہر اپنی زمینوں پر تشریف لے گئے پھر بغیر احرام کے مکہ میں واپس تشریف لے آئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14030
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14030، ترقيم محمد عوامة 13701)
١٤٠٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن مالك بن أنس عن الزهري قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں بغیر احرام کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14031
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14031، ترقيم محمد عوامة 13702)