١٣٩٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن وبرة عن الأسود قال: رأيت عمر بن الخطاب يرمي جمرة العقبة من فوقها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو جمرہ عقبہ کے اوپر سے رمی کرتے ہوئے دیکھا۔
١٣٩٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (إدريس) (١) عن ابن جريج قال: قلت ⦗٦٦⦘ لعطاء: كيف أرمي (الجمرتين) (٢) (القصويين؟) (٣) قال: (اعلهما) (٤) علوًا، ثم (تفرعهما) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا : وادی کے کنارے پر جو جمرے ہیں ان کی رمی کیسے کروں ؟ آپ نے فرمایا : اس کے اوپر کی طرف سے آ کر رمی کر۔
١٣٩١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (عمر) (١) شيخ من أهل البصرة (عن) (٢) الحسن: أنه كان يرمي الجمرة من فوقها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن جمرہ کی رمی اوپر سے آ کر کرتے تھے۔
١٣٩١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن الرؤاسي عن زهير عن الحسن بن الحر (عن الحكم) (١) (عن إبراهيم) (٢) عن أصحاب عبد اللَّه أنهم كانوا (يرمون الجمرتين الأوليين من فوقها) (٣)؛ يرمون أعلى شيء منهما.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ کے اصحاب پہلے دونوں جمروں کی رمی ان کے اوپر کی طرف سے کرتے تھے، وہ ان دونوں کے اوپر جو بلند جگہ ہوتی وہاں سے کرتے۔
١٣٩١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مالك (بن أنس) (١) عن (عبد الرحمن) (٢) بن القاسم عن أبيه قال: ارميهما من حيث تيسر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں جہاں سے آسانی ہو جمرہ کی رمی کرو۔