کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جب امام عرفہ سے چلا جائے تو رش کے ختم ہو جانے تک عرفہ میں ہی قیام کرے اس میں کوئی حرج نہیں
❮
❯
١٣٨٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن القاسم قال: كانت عائشة (لا تفيض) (١) حتى (يبيض) (٢) ما بينها وبين ⦗٦١⦘ (الناس من) (٣) الأرض (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرفہ سے منیٰ کے لیے تب تک نہ نکلتیں جب تک کہ ان کے اور لوگوں کے درمیان زمین سفید (خالی) نہ ہوجاتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13889
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13889، ترقيم محمد عوامة 13571)
١٣٨٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج قال: قلت لعطاء يقف الإنسان عشية عرفة بعد ما يدفع الإمام حتى يذهب زحام الناس؟ قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے عرض کیا : کوئی شخص عرفہ کی شام امام کے چلے جانے کے بعد لوگوں کے رش کے ختم ہونے تک عرفہ میں ہی قیام کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13890
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13890، ترقيم محمد عوامة 13572)
١٣٨٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن أبي حرة عن الحسن أنه سئل عن رجل وقف مع الإمام (أيحبس) (١) راحلته وقد نفر الإمام حتى يذهب الزحام؟ قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دریافت کیا گیا کہ عرفہ میں امام کے چلے جانے کے بعد ایک شخص اپنی سواری کو روک کے رکھتا ہے یہاں تک کہ لوگوں کا اژدحام ختم ہوجائے ؟ آپ نے فرمایا : اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13891
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13891، ترقيم محمد عوامة 13573)