١٣٣٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن نمير عن حجاج عن (حسين) (١) عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي ﷺ رخص في (الثوب) (٢) المصبوغ للمحرم ما لم يكن له (نفض) (٣) ولا ردع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کے لیے اس رنگے ہوئے کپڑے کو پہننے کی اجازت دی ہے جس کچھ رنگ اتر چکا ہو اور اس میں خوشبو کا اثر بھی نہ ہو۔
١٣٣٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) شريك عن أبي إسحاق عن أبي جعفر (٢) ⦗٤٥٧⦘ قال: أحرم عقيل بن أبي طالب في ثوبين (ورديين) (٣)، فرآه عمر، فقال (له) (٤) هذا؟ فقال له (عليٌ) (٥): إن أحدًا لا يعلمنا بالسنة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقیل بن ابی طالب نے دور گلابی رنگ کئے ہوئے کپڑوں کا احرام باندھا، حضرت عمر نے ان کو دیکھ کر فرمایا : یہ کیا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : بیشک کوئی شخص ہمیں سنت کی تعلیم نہیں دیتا۔
١٣٣٠٩ - [حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو معاوية عن زياد بن سعد عن أبي الزبير عن جابر (قال: لا) (١) بأس (بالمضرج) (٢) للمحرم] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں محرم کے لیے لال رنگ میں رنگے ہوئے کپڑا پہننے میں کوئی حرج نہیں۔
١٣٣١٠ - [حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) ابن نمير عن يحيى بن سعيد (عن) (٢) عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه أنه كان يلبس الثياب الموردة وهو محرم] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم نے حالت احرام میں لال رنگ میں رنگے ہوئے کپڑا پہنے۔
١٣٣١١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حماد بن خالد عن عبد اللَّه بن عمر عن عبد الرحمن بن القاسم عن عبد اللَّه (بن عبد اللَّه) (١) قال: كان (الفتيان) (٢) يحرمون ⦗٤٥٨⦘ مع ابن عمر في المورد، فلا ينهاهم ولا ينكر عليهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ نوجوانوں نے حالت احرام میں لال رنگ میں رنگے ہوئے کپڑے پہن رکھے اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، آپ نے نہ ان کو اس سے منع فرمایا اور نہ ہی یہ کپڑے پہن کر آنے سے ان کو ڈانٹا۔
١٣٣١٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن يزيد عن مقسم عن ابن عباس قال: لا بأس بالمورد للمحرم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں محرم کے لیے رنگا ہوا کپڑا پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
١٣٣١٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن (عمر) (١) بن محمد قال: رأيت (على) (٢) سالم (يومًا) (٣) ثوبًا موردًا يعني وهو محرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم کو حالت احرام میں رنگا ہوا کپڑا پہنے ہوئے دیکھا۔