١٢٩٩٥ - حدثنا وكيع عن سلام بن مسكين أنه سأل جابر بن زيد والحسن عن امرأة جعلت عليها هديا، فقال جابر بن زيد: إن كانت موسرة فبقرة، وإن كانت معسرة فشاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلام بن مسکین سے مروی ہے کہ حضرت جابر بن زید اور حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک عورت نے قسم اٹھائی ہے کہ میرے ذمہ ھدی بھیجنا ہے ؟ حضرت جابر بن زید نے فرمایا : اگر وہ مالدار ہے تو گائے بھیجے اور اگر وہ غریب ہے تو بکری بھیجے، اور حسن نے فرمایا : قسم کا کفارہ ہے، تین دن کے روزے رکھے۔
١٢٩٩٧ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه قال: في الرجل يقول: عليَّ هدي أو عليَّ نذر قال: يمين.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کہے میرے ذمہ ھدی ہے یا مجھ پر نذر ہے تو یہ قسم ہے۔
١٢٩٩٨ - حدثنا يحيى بن سعيد عن (سلمة أبي بشر) (١) (٢) عن عكرمة في الرجل يحلف (بالنذر) (٣) والهدي، قال: من (خطوات) (٤) (الشيطان) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اونٹ یا ھدی کی قسم کھائے تو یہ شیطان کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے۔
١٢٩٩٩ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن قيس بن (سعد) (١) عن عطاء عن ابن عباس في رجل قال: عليّ هدي. قال: لا أقل من شاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی شخص یوں کہے مجھ پر ھدی ہے تو بکری سے کم نہ بھیجے۔
١٣٠٠٠ - حدثنا سهل بن يوسف عن شعبة عن الحكم وحماد قالا: إذا قال: عليَّ هدي ولم يسم [شيئًا قالا: يمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں جب کوئی شخص کہے مجھ پر ھدی بھیجنا اور کسی چیز کا نام نہ لے تو یہ قسم ہے۔
١٣٠٠١ - (حدثنا عبد الوهاب عن جويبر عن الضحاك قال: إذا قال: عليّ هدي ولم يسم) (١) فليهد ما شاء ولو (كبة) (٢) من غزل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص کہے کہ مجھ پر ھدی بھیجنا لازم ہے اور اس کا نام نہ لے تو جو چاہے مرضی ھدی بھیج دے اگرچہ ہرن کا بچہ ہی بھیج دے۔