کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ کسی شخص سے ایک وقت تک بات نہیں کروں گا تو اس سے کتنا وقت مراد ہے؟
١٢٨٧٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي ظبيان عن ابن عباس (١) قال: الحين قد يكون غدوة وعشية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ وقت کا اطلاق کبھی صبح وشام پر بھی ہوتا ہے۔
١٢٨٧٥ - حدثنا أبو الأحوص عن عطاء بن السائب (عن رجل منهم قال: سألت ابن عباس) (١) قلت: إني حلفت (لا) (٢) أكلم رجلًا حينًا قال: فقرأ ابن عباس: ﴿تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا﴾ [إبراهيم: ٢٥]، قال: الحين السنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن السائب ان میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ میں نے قسم اٹھائی ہے کہ میں ایک شخص سے ایک وقت (زمانے) تک بات نہیں کروں گا ؟ آپ نے قرآن پاک کی آیت تلاوت کی { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا } فرمایا : لفظ حین سے مراد ایک سال ہے۔
١٢٨٧٦ - حدثنا ابن إدريس عن داود عن عكرمة قال: الحين ستة أشهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ الحین سے مراد چھ مہینے ہیں۔
١٢٨٧٧ - [حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن أيوب عن عكرمة قال: الحين ستة أشهر] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ الحین سے مراد چھ مہینے ہیں۔
١٢٨٧٨ - حدثنا عبد الرحيم عن عبد الرحمن بن حرملة قال: سمعت سعيد ابن المسيب وسأله رجل فقال: إني حلفت (على امرأتي أن لا تدخل) (١) على أهلها حينًا فقال: الحين ما بين أن يطلع النخل إلى أن يثمر، وما بين أن يثمر إلى أن يطلع، فقال (له) (٢) سعيد: ﴿ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً﴾ [إبراهيم: ١٢٤] إلى قوله: ﴿تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن حرملہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب سے ایک شخص نے سوال کیا کہ میں نے قسم اٹھائی ہے کہ اپنی بیوی سے ایک وقت تک بات نہیں کروں گا ؟ آپ نے فرمایا الحین سے مراد کھجور ظاہر ہو کر پکنے تک کا درمیانی وقت ہے اور پک کر ظاہر ہونے تک کا درمیانی وقت ہے، حضرت سعید نے اس سے فرمایا : { ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً } سے لے کر { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا } تک تلاوت فرمائی۔
١٢٨٧٩ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن رجل حلف أن لا (يكلم) (١) رجلًا حينًا فقال: الحين سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا ایک شخص نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ ایک شخص سے زمانے اور وقت تک بات نہیں کرے گا ؟ آپ نے فرمایا الحین سے مراد ایک سال ہے۔
١٢٨٨٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (طارق) (١) عن سعيد بن جبير قال: الحين ستة أشهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ الحین سے مراد چھ مہینے ہیں۔
١٢٨٨١ - حدثنا (يزيد) (١) بن هارون عن (محمد) (٢) بن مسلم عن إبراهيم بن ميسرة عن سعيد بن المسيب قال: الحين شهران، (النخلة) (٣) (تطعم) (٤) السنة كلها إلا شهرين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ الحین سے مراد دو مہینے ہیں بیشک کھجوریں دو مہینوں کے علاوہ پورے سال ظاہر ہوتی ہیں۔
١٢٨٨٢ - حدثنا معاوية بن عمرو (عن) (١) زائدة عن إبراهيم بن مهاجر عن عكرمة قال: الحين ستة أشهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ الحین سے مراد چھ مہینے ہیں۔